کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب (وصی) اس میں بھلائی دیکھے تو یتیم کے مال سے اس کے لیے جائیداد خریدے۔
حدیث نمبر: 10988
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ مَالُ يَتِيمَيْنِ فَجَعَلَ يُزَكِّيهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، لَا تَتَّجِرْ فِيهِ، وَلَا تَضْرِبْ، مَا أَسْرَعَ هَذِهِ فِيهِ، قَالَ " لَأُزَكِّيَنَّهُ وَلَوْ لَمْ يَبْقَ إِلَّا دِرْهَمٌ، قَالَ: ثُمَّ اشْتَرَى لَهُمَا بِهِ دَارًا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کے پاس دو یتیموں کا مال تھا، وہ اس سے زکاۃ ادا کرنے لگے، میں نے کہا: ابا جی! آپ اس مال کے ساتھ تجارت کیوں نہیں کرتے اور اسے مضاربت پر کیوں نہیں دیتے؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ شاید یہ جلدی ختم ہو رہا ہے۔ وہ کہنے لگے: میں اس سے زکاۃ ادا کرتا رہوں گا، اگرچہ ایک درہم بھی باقی نہ رہے۔ فرماتے ہیں کہ پھر انہوں نے ان دو یتیموں کے لیے ان کے مال سے گھر خریدا۔