کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلاموں (کی بیع) میں عہدہ (ضمانت کی مدت) کے متعلق جو وارد ہوا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثُ لَيَالٍ " قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: كَيْفَ يَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: إِذَا وَجَدَ الْمُشْتَرِي عَيْبًا بِالسِّلْعَةِ فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا فِي تِلْكَ الثَّلَاثَةِ أَيَّامٍ وَلَا يُسْأَلُ الْبَيِّنَةَ، وَإِذَا مَضَتِ الثَّلَاثَةُ أَيَّامٍ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرُدَّهَا إِلَّا بِبَيِّنَةٍ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا وَذَلِكَ الْعَيْبُ بِهَا، وَإِلَّا فَيَمِينُ الْبَائِعِ أَنَّهُ لَمْ يَبِعْهُ كَذَا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ وَخَالَفَهُمْ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فِي مَتْنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کے عیب کی ضمانت تین راتوں تک ہے۔“
سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا: جب خریدار سامان میں عیب پائے اور وہ ان تین ایام میں واپس کر دے تو دلیل کا بھی سوال نہ ہوگا، لیکن تین دن گزر جانے کے بعد دلیل مانگی جائے گی کہ اس سے خریدا اور اس وقت عیب موجود تھا وگرنہ فروخت کرنے والا قسم اٹھائے گا کہ فروخت کے وقت اس میں یہ بیماری نہ تھی۔
سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: یہ کیسے؟ انہوں نے فرمایا: جب خریدار سامان میں عیب پائے اور وہ ان تین ایام میں واپس کر دے تو دلیل کا بھی سوال نہ ہوگا، لیکن تین دن گزر جانے کے بعد دلیل مانگی جائے گی کہ اس سے خریدا اور اس وقت عیب موجود تھا وگرنہ فروخت کرنے والا قسم اٹھائے گا کہ فروخت کے وقت اس میں یہ بیماری نہ تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعُ لَيَالٍ " قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: قَالَ هِشَامٌ: قَالَ قَتَادَةُ: وَأَهْلُ الْمَدِينَةِ يَقُولُونَ: ثَلَاثًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”غلام کے عیب کی ضمانت چار راتوں تک ہے۔“
ہشام فرماتے ہیں کہ قتادہ نے کہا: اہل مدینہ تین راتوں کا ذکر کرتے ہیں۔
ہشام فرماتے ہیں کہ قتادہ نے کہا: اہل مدینہ تین راتوں کا ذکر کرتے ہیں۔
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَوْ عُقْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُهْدَةُ الرَّقِيقِ أَرْبَعَةُ أَيَّامٍ " حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ یا عقبہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کے عیب کی ضمانت کے چار دن ہیں۔“
كَمَا أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عُهْدَةَ فَوْقَ أَرْبَعٍ " ⦗٥٢٩⦘ مَدَارُ هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ مُرْسَلٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيُّ لَمْ يَسْمَعِ الْحَسَنُ مِنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ شَيْئًا..
حافظ ثناء اللہ
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”غلام کے عیب کی ضمانت چار دن سے اوپر نہیں۔“
اس حدیث کا دار و مدار حسن عن عقبہ بن عامر پر ہے اور یہ مرسل ہے، علی بن عبداللہ مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔
اس حدیث کا دار و مدار حسن عن عقبہ بن عامر پر ہے اور یہ مرسل ہے، علی بن عبداللہ مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے کچھ نہیں سنا۔
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمَدِينِيَّ، فَذَكَرَهُ وَكَذَلِكَ قَالَهُ جَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ أَهْلِ النَّقْلِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَالْخَبَرُ فِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ عُهْدَةَ ثَلَاثٍ خَاصٌّ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَكُنْ فِيمَا مَضَى عُهْدَةٌ فِي الْأَرْضِ لَا مِنْ هِيَامٍ وَلَا مِنْ جُذَامٍ وَلَا شَيْءٍ، قُلْتُ لَهُ: مَا ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ؟ قَالَ: لَا شَيْءَ إِذَا ابْتَاعَهُ صَحِيحًا لَا أَرَى إِلَّا ذَلِكَ، اللهُ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِبَيِّنَةٍ عَلَى شَيْءٍ كَانَ قَبْلَ أَنْ يَبْتَاعَهُ وَكَذَلِكَ يُرَى الْأَمْرُ الْآنَ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن عبداللہ مدینی رحمہ اللہ نے یہی بات کہی ہے (کہ حسن نے عقبہ سے نہیں سنا)، اور اسی طرح ائمہ نقل کی ایک جماعت نے بھی کہا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو غلام کے عیب کی ضمانت تین دن دی تھی، یہ انہی کے ساتھ خاص تھا۔
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں روئے زمین پر کہیں بھی ضمانت نہ ہوتی تھی، نہ پیاس کی بیماری کی، نہ کوڑھ کی اور نہ کسی اور چیز کی۔ میں نے ان سے کہا: کیا تین دن نہ تھے؟ فرماتے ہیں: جب صحیح فروخت کی جائے پھر کوئی ضمانت نہیں۔ بعد میں اللہ کوئی بیماری پیدا کرے تو اس کی مرضی۔ لیکن اگر ثابت ہو جائے کہ فروخت سے پہلے یہ بیماری تھی پھر ضمانت ہے، معاملہ اسی طرح ہی چل رہا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ کو غلام کے عیب کی ضمانت تین دن دی تھی، یہ انہی کے ساتھ خاص تھا۔
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں روئے زمین پر کہیں بھی ضمانت نہ ہوتی تھی، نہ پیاس کی بیماری کی، نہ کوڑھ کی اور نہ کسی اور چیز کی۔ میں نے ان سے کہا: کیا تین دن نہ تھے؟ فرماتے ہیں: جب صحیح فروخت کی جائے پھر کوئی ضمانت نہیں۔ بعد میں اللہ کوئی بیماری پیدا کرے تو اس کی مرضی۔ لیکن اگر ثابت ہو جائے کہ فروخت سے پہلے یہ بیماری تھی پھر ضمانت ہے، معاملہ اسی طرح ہی چل رہا ہے۔