کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ذمے میں واجب الادا موصوف (طے شدہ) قیمت کے بدلے کوئی اور چیز لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10695
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتَ حَفْصَةَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ، وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَهَا بِسِعْرِ يَوْمِهَا مَا لَمْ تَتَفَرَّقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا تھا، میں دیناروں کے عوض فروخت کرتا لیکن اس کے عوض درہم وصول کرلیتا اور میں درہموں میں فروخت کرتا تو اس کے عوض دینار لے لیتا۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر داخل ہونا چاہتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں بقیع میں اونٹ فروخت کرتا ہوں، میں دیناروں میں فروخت کر کے اس کے عوض درہم وصول کرلیتا ہوں اور کبھی میں درہموں میں بیچ کر دینار لے لیتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، جب آپ اس دن کے بھاؤ کے مطابق وصول کریں، جب تک تم دونوں جدا نہ ہو اور تمہارے درمیان کچھ بھی باقی نہ ہو۔“