کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس شخص نے درختوں پر لگے پھلوں کی اندازہ لگا کر (خرص کے ذریعے) تقسیم کو جائز قرار دیا، خیبر کے کھجور کے باغات میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے واقعے سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10555
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ فِي الثَّمَرِ يَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ أَنَّهُ " لَا بَأْسَ أَنْ يُقَسِّمَاهُ فِي رُءُوسِ النَّخْلِ بِالْخَرْصِ فَيَجُوزُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا طَائِفَةً مِنَ النَّخْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ مدینہ کے معتبر فقہاء رحمہ اللہ سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ اس پھل کے بارے میں فرماتے ہیں جو دو آدمیوں کے درمیان ہو کہ وہ درخت کے اوپر ہی اندازے سے تقسیم کر لیں۔ ان کے لیے جائز ہو گا کہ کھجور کے درختوں کا انتخاب کر لیں۔