کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”سونے اور چاندی کے بنے ہوئے زیورات کو ان کی جنس کے عوض ان کے وزن سے زیادہ پر فروخت نہیں کیا جائے گا“، سود کے باب میں گزر چکی ثابت احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔
حدیث نمبر: 10547
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَزْنًا بِوَزْنٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سونا سونے کے بدلے برابر وزن ایک جیسا اور چاندی چاندی کے عوض برابر وزن، جس نے زیادہ کیا یا زیادتی کا مطالبہ کیا، اس نے سود وصول کیا۔“
حدیث نمبر: 10548
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ صَائِغٌ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ، ثُمَّ أَبِيعُ الشَّيْءَ مِنْ ذَلِكَ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهِ فَأَسْتَفْضِلَ فِي ذَلِكَ قَدْرَ عَمَلِ يَدِي فيه فَنَهَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَجَعَلَ الصَّائِغُ يُرَدِّدُ عَلَيْهِ الْمَسْأَلَةَ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ يَنْهَاهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَى دَابَّتِهِ يُرِيدُ أَنْ يَرْكَبَهَا ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا هَذَا عَهْدُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا، وَعَهْدُنَا إِلَيْكُمْ " وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ حَيْثُ بَاعَ سِقَايَةً مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ بِأَكْثَرَ مِنْ وَزْنِهَا فَنَهَاهُ أَبُو الدَّرْدَاءَ وَمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي النَّهْيِ عَنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھوم رہا تھا، ایک سنار آیا، اس نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! میں سونے کے زیور بناتا ہوں، پھر میں کچھ فروخت کرتا ہوں، اس کے وزن سے زائد پر تو میں اس میں اپنی مزدوری لے لیتا ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو منع فرما دیا۔ سنار بار بار اپنا مسئلہ دہرا رہا تھا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس کو منع کر رہے تھے، یہاں تک کہ وہ مسجد کے دروازے یا اپنی سواری کے پاس آئے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”دینار دینار کے بدلے، درہم درہم کے بدلے ہو، ان میں تفاضل نہیں ہے۔“ یہ تو ہمارے نبی ﷺ کا ہماری طرف عہد تھا اور ہمارا عہد تمہاری طرف یہی ہے۔
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی جب انہوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا تھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔
(ب) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی جب انہوں نے پانی پینے کا برتن سونے یا چاندی کا زیادہ وزن میں فروخت کیا تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے منع کر دیا تھا اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس کی نہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 10549
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ ابْنُ عَطَاءٍ، أنا سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي فَاطِمَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَجْلِسُ عِنْدِي فَيُعَلِّمُنِي الْآيَةَ فَأَنْسَاهَا فَأُنَادِيهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَدْ نُسِّيتُهَا فَيَرْجِعُ فَيُعَلِّمُنِيهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَصُوغُ الذَّهَبَ فَأَبِيعُهُ بِوَزْنِهِ وَآخُذُ لِعُمَالَةِ يَدِي أَجْرًا، قَالَ: لَا تَبِعِ الذَّهَبَ بِالذَّهَبِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْفِضَّةَ بِالْفِضَّةِ إِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَلَا تَأْخُذْ فَضْلًا.
حافظ ثناء اللہ
ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ میرے پاس بیٹھتے، وہ مجھے آیت سکھاتے۔ وہ مجھے بھول گئی، میں ان کو آواز دیتا: اے امیر المؤمنین! میں بھول گیا ہوں۔ وہ واپس آئے اور مجھے وہ آیت سکھائی۔ میں نے ان سے کہا کہ میں سونے کے زیورات بناتا ہوں میں اس کے وزن کے ساتھ فروخت کر دیتا ہوں۔ کیا میں اپنی مزدوری لے لیا کروں؟
انہوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔
انہوں نے کہا کہ سونا سونے کے بدلے، برابر وزن میں فروخت کرو اور چاندی چاندی کے بدلے برابر وزن میں۔ زائد وصول نہ کرنا۔