کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ”کھانے پینے کی اشیاء، سونے اور چاندی کے علاوہ کسی اور چیز میں سود نہیں ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: جَاءَ عَبْدٌ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِيهِ " فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ؟، ⦗٤٧٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک غلام آیا، اس نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت پر بیعت کرلی۔ آپ ﷺ کو معلوم نہ تھا کہ وہ غلام ہے۔ اس کا سردار آیا اس کا ارادہ رکھتا تھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے فروخت کر دو۔“ آپ ﷺ نے اس کو دو سیاہ غلاموں کے عوض خریدا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے کسی سے بیعت نہیں لی جب تک پوچھا نہیں کہ کیا وہ غلام ہے؟
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ، وَعَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى صَفِيَّةَ مِنْ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عَفَّانَ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ سے سات غلاموں کے عوض خریدا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ بَعِيرٍ بِبَعِيرَيْنِ، فَقَالَ: " قَدْ يَكُونُ الْبَعِيرُ خَيْرًا مِنَ الْبَعِيرَيْنِ " وَرُوِّينَا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُ اشْتَرَى بَعِيرًا بِبَعِيرَيْنِ، فَأَعْطَاهُ أَحَدَهُمَا وَقَالَ: آتِيكَ بِالْآخَرِ غَدًا رَهْوًا إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک اونٹ کو دو کے عوض خریدنے کے بارے میں سوال کیا گیا، وہ فرماتے ہیں کہ: ”کبھی ایک اونٹ دو اونٹوں سے بہتر ہوتا ہے۔“
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک اونٹ دو کے عوض خریدا، انہوں نے ایک تو دے دیا اور کہا: ”دوسرا کل صبح آرام سکون سے لا کر دوں گا۔“
(ب) سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک اونٹ دو کے عوض خریدا، انہوں نے ایک تو دے دیا اور کہا: ”دوسرا کل صبح آرام سکون سے لا کر دوں گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا رِبَا فِي الْحَيَوَانِ، وَإِنَّمَا نُهِيَ مِنَ الْحَيَوَانِ عَنِ الْمَضَامِينِ، وَالْمَلَاقِيحِ وَحَبَلِ الْحَبَلَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حیوانوں میں سود نہیں ہے، لیکن حیوانوں سے ممانعت ہے: (1) مادہ کے پیٹ کے بچے، (2) اونٹ کی ملائی، (3) مادہ بچے کو جنم دے، پھر یہ حاملہ ہو کر جنم دے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُلَيَّةَ، إِنْ شَاءَ اللهُ - شَكَّ الرَّبِيعُ -، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْحَدِيدِ بِالْحَدِيدِ، فَقَالَ: " اللهُ أَعْلَمُ أَمَّا هُمْ فَكَانُوا يَتَبَايَعُونَ الدِّرْعَ بِالْأَدْرُعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن علقمہ، محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان سے پوچھا گیا کہ لوہے کو لوہے کے بدلے خریدنا کیسا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتے ہیں، لیکن وہ ایک زرہ کو کئی زرہوں کے بدلے خرید لیا کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا الْقَدَّاحُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا بَأْسَ بِالسَّلَفِ فِي الْفُلُوسِ " قَالَ سَعِيدٌ الْقَدَّاحُ: " لَا بَأْسَ بِالسَّلَفِ فِي الْفُلُوسِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پیسوں (فلوس) میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ سعید قداح رحمہ اللہ بھی کہتے ہیں کہ پیسوں (فلوس) میں بیع سلف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔