کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر میں اخراجات کے لیے آپس میں چندہ یا حصہ ملانے (مناہدہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10359
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمَذَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ⦗٤٢٤⦘ عَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبِ بْنِ وَحْشِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَمَا نَشْبَعُ، قَالَ: " فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ عَنْ طَعَامِكُمُ، اجْتَمِعُوا عَلَيْهِ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللهِ تَعَالَى يُبَارَكْ لَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
وحشی بن حرب بن وحشی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم جدا جدا کھاتے ہو، اکٹھے ہو کر کھایا کرو اور اللہ کا نام لو، اللہ تمہارے لیے برکت ڈالے گا۔“
حدیث نمبر: 10360
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ} [الأنعام: ١٥٢] عَزَلُوا أَمْوَالَهُمْ عَنْ أَمْوَالِ الْيَتَامَى، فَجَعَلَ الطَّعَامُ يَفْسُدُ وَاللَّحْمُ يُنْتِنُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإخْوَانُكُمْ} [البقرة: ٢٢٠] قَالَ: " فَخَالِطُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [سورة الأنعام: 152] ”تم یتیموں کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر احسن انداز سے۔“ نازل ہوئی تو لوگوں نے یتیموں کے مال اپنے مالوں سے الگ کر دیے اور کھانا خراب ہو جاتا اور گوشت بدبودار ہو جاتا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو شکایت کی تو اللہ نے یہ آیت: ﴿قُلْ إِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ﴾ [سورة البقرة: 220] ”ان کے لیے اصلاح بہتر ہے۔ اگر تم ان کو اپنے ساتھ ملا لو۔“ نازل کی تو پھر انہوں نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا۔