أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ النَّصْرَآبَاذِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مَعَهُ حِمَارٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ ارْكَبْ وَأَتَأَخَّرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ⦗٤٢٣⦘ لَا، أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي، تَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ لِي؟ " قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ أَرْسَلَهُ غَيْرُهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چل رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا، اس کے پاس گدھا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! سوار ہو جائیے، میں پیچھے بیٹھ جاتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، تو اپنے چوپائے کے آگے سوار ہونے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے لیکن تو اس کو میرے لیے کر دے“ یعنی اپنی خوشی سے اجازت دے۔ اس نے کہا: میں نے آپ کے لیے کر دیا، یعنی آگے آپ سوار ہو جائیں۔
دوسرے راویوں نے اسے عبداللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے عبداللہ سے مرسل روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَابَّةٍ؛ لِيَرْكَبَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَبُّ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا " قَالَ مُعَاذٌ: هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْدَفَ مُعَاذًا.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس چوپایہ لے کر آئے تاکہ آپ ﷺ اس پر سوار ہو جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جانور کا مالک اس کے آگے سواری کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے سوار ہو کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو پیچھے سوار کر لیا۔