کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سفر کرنے اور رات کے آخری پہر پڑاؤ ڈالنے (تعریس) کا طریقہ اور رات کے سفر (دلجہ) کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 10340
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ أَوْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ عَلَيْهَا وَإِذَا عَرَّسْتُمْ بِاللَّيْلِ فَاجْتَنِبُوا الطَّرِيقَ، فَإِنَّهُ مَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ "،.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم شادابی میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کا حق دیا کرو اور جب تم قحط سالی اور خشک سالی میں سفر کرو تو پھر ان پر تیزی سے سفر کیا کرو اور جب تم رات کو پڑاؤ کرو تو راستے سے بچو کیونکہ رات کو یہ حشرات الارض کا ٹھکانا ہوتا ہے، ٹھہرنے کی جگہ ہوتی ہے۔“
حدیث نمبر: 10341
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، أنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ: " أَوْ فِي الْجَدْبِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَرِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ اس کے مثل ذکر کرتے ہیں، لیکن انہوں نے «أَوْ فِي الْجَدْبِ» کے الفاظ نہیں بولے۔
حدیث نمبر: 10342
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ الْبَلْخِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم رات کے سفر کو لازم پکڑو کیونکہ رات میں زمین کی مسافت مختصر ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 10343
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ، حَدَّثَنِي رُوَيْمٌ، يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي ⦗٤٢٠⦘ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا أَخْصَبَتِ الْأَرْضُ فَانْزِلُوا عَنْ ظَهْرِكُمْ وَأَعْطُوا حَقَّهُ الْكَلَأَ وَإِذَا أَجْدَبَتِ الْأَرْضُ فَامْضُوا عَلَيْهَا، وَعَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب زمین سرسبز و شاداب ہو تو تم اپنی سواریوں سے نیچے اترو، تم ان کو ان کے گھاس کا حق دو اور جب زمین پر ہریالی نہ ہو تو پھر اس سے جلدی گزر جاؤ اور رات کے سفر کو لازم پکڑو؛ کیونکہ رات میں زمین کی مسافت مختصر ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 10344
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ السَّمَّاكُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَرَّسَ بِلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلَى يَمِينِهِ، وَإِذَا عَرَّسَ قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ نَصَبًا، وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بِشْرَانَ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَرَّسَ وَعَلَيْهِ لَيْلٌ تَوَسَّدَ يَمِينَهُ، فَإِذَا عَرَّسَ قُرْبَ الصُّبْحِ وَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى كَفِّهِ الْيُمْنَى فَأَقَامَ سَاعَةً " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو پڑاؤ فرماتے تو اپنی دائیں جانب لیٹ جاتے، لیکن جب صبح سے پہلے پڑاؤ فرماتے تو اپنے بازوؤں کو کھڑا کر کے اپنی ہتھیلی پر سر رکھ لیتے۔
(ب) ابن بشر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو پڑاؤ ڈالتے اور رات کا حصہ زیادہ ہوتا تو اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بنا لیتے اور جب صبح سے پہلے پڑاؤ فرماتے تو اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنا سر رکھ لیتے اور پھر کچھ دیر اس کو سیدھا رکھتے۔
(ب) ابن بشر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو پڑاؤ ڈالتے اور رات کا حصہ زیادہ ہوتا تو اپنے دائیں ہاتھ کو تکیہ بنا لیتے اور جب صبح سے پہلے پڑاؤ فرماتے تو اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر اپنا سر رکھ لیتے اور پھر کچھ دیر اس کو سیدھا رکھتے۔