کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: شہداء کی قبروں کی زیارت کا بیان۔
حدیث نمبر: 10299
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ مِنْ أَصْلِهِ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ مَرَّ هُوَ وَرَجُلٌ يُقَالُ لَهُ ابْنُ يُوسُفَ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ ابْنُ يُوسُفَ: إِنَّا لَنَجِدُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنَ الْحَدِيثِ مَا لَا نَجِدُ عِنْدَكَ، قَالَ: عِنْدِي حَدِيثٌ كَثِيرٌ وَلَكِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ الْهُدَيْرِ وَكَانَ يَلْزَمُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ زَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ، قَالَ رَبِيعَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا هُوَ؟ قَالَ: قَالَ لِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ تَدَلَّيْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا، فَقَالَ: " هَذِهِ قُبُورُ أَصْحَابِنَا " ثُمَّ خَرَجْنَا فَلَمَّا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ، قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا ".
حافظ ثناء اللہ
داؤد بن خالد بن دینار سے روایت ہے کہ ان کا اور ایک آدمی کا، جسے ابن یوسف کہا جاتا تھا، ربیعہ بن عبدالرحمن کے پاس سے گزر ہوا تو ابن یوسف نے کہا: ”ہم دوسروں کے پاس وہ احادیث پاتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔“ انہوں نے کہا: ”میرے پاس بہت سی احادیث ہیں، لیکن ربیعہ بن ہدید، طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہتے تھے، ان کا خیال ہے کہ انہوں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے کبھی نہیں سنا سوائے ایک حدیث کے۔“ ربیعہ نے کہا کہ میں نے پوچھا: ”وہ کیا ہے؟“ مجھے طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ”ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے اور واقم کے حرہ (پتھریلی زمین) کی طرف گئے، ہمیں وہاں کچھ دکھائی دیا، وہ کچھ پرانی قبریں تھیں، ہم نے کہا: یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہمارے ساتھیوں کی قبریں ہیں“، پھر ہم شہداء کی قبروں کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہمارے بھائیوں کی قبریں ہیں“۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10299
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابوداود 2043»
حدیث نمبر: 10300
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ جَابِرٍ السَّقَطِيُّ، ثنا حَامِدٌ، يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْمَدَنِيُّ الْخُزَاعِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10300
حدیث نمبر: 10301
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ الصَّائِغُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا عِيسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِي مَوْدُودٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبُورِ الشُّهَدَاءِ عَلَى نَاقَتِهِ رَدَّهَا هَكَذَا وَهَكَذَا فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الطَّرِيقِ عَلَى نَاقَتِهِ فَقُلْتُ: لَعَلَّ خُفِّي يَقَعُ عَلَى خُفِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اونٹنیوں کو گھماتے تھے، ان سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی اونٹنی کے ساتھ اس طرح کرتے دیکھا تھا، شاید کہ میری اونٹنی کے پاؤں آپ ﷺ کی اونٹنی کے پاؤں پر آ جائیں۔ [حسن]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10301