کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: 0ہدی (قربانی کے جانور) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: اونٹ، گائے اور بکری کی قربانی (ہدی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 10148
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قِصَّةِ التَّمَتُّعِ، قَالَ: وَقَالَ: مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ " جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ قربانی کے جانور ٨ قسم کے ہیں۔
حدیث نمبر: 10149
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مِنَ الْأَزْوَاجِ الثَّمَانِيَةِ " يَعْنِي الْهَدْيَ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ آٹھ قسم کے جانور (نر و مادہ) قربانی کے اونٹ، گائے، بکری، بھیڑ استطاعت کے مطابق جتنا بڑا ہو، اتنا ہی افضل ہے۔
حدیث نمبر: 10150
قَالَ: وَحَدَّثَ سَعِيدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " مِنَ الْأَزْوَاجِ الثَّمَانِيَةِ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرِ، وَالضَّأْنِ، وَالْمَعْزِ عَلَى قَدْرِ الْمَيْسَرَةِ مَا عَظُمَتْ فَهُوَ أَفْضَلُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوجعفر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قربانی کے متعلق سوال کیا کہ وہ کس جانور سے ہو؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آٹھ قسم کے جانوروں سے۔“ گویا کہ اس آدمی کو اس میں شک گزرا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم قرآن کی تلاوت کرتے ہو؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سن رکھا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ أُحِلَّتْ لَكُم بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! اللہ کے عہد و پیمان کو پورا کرو، چوپائے چرنے والے جانور تمہارے لیے حلال کیے گئے ہیں۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: ”کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے: ﴿لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾ [سورة الحج: 34] ”تاکہ وہ اللہ کا نام ذکر کریں ان چوپائے جانوروں پر جو ہم نے ان کو عطا کیے ہیں۔“ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ﴾ [سورة الأنعام: 142] ”اور چوپائے جانوروں میں سے اس نے بوجھ لادنے والے اور زمین کے ساتھ لگے ہوئے پیدا کیے، لوگو! اللہ نے جو رزق دیا ہے اسے تم کھاؤ۔“ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی سن رکھا ہے: ﴿مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ ۗ قُلْ آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنثَيَيْنِ أَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ أَرْحَامُ الْأُنثَيَيْنِ ۖ نَبِّئُونِي بِعِلْمٍ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۞ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ﴾ [سورة الأنعام: 143-144] ”(چار جوڑے) دو بھیڑیں (نر اور مادہ) اور دو بکریاں (نر و مادہ)۔ (اے پیغمبر!) آپ کہہ دیں: کیا اللہ نے (ان بھیڑ بکری میں سے) دو نروں کو (یعنی مینڈھے اور بکرے کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (بھیڑ اور بکری کو) یا ان دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے، اگر تم سچے ہو تو مجھے کسی علم (سند) سے بتاؤ۔ اور اونٹ میں سے دو اور گائے میں سے دو (نر و مادہ)۔ (اے پیغمبر!) کہہ دیں: کیا اللہ نے دونوں نروں کو (یعنی اونٹ اور بیل کو) حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو (یعنی اونٹنی اور گائے کو) یا دونوں مادوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہے اس کو۔“ اس نے کہا: جی ہاں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا اللہ کا یہ فرمان سن رکھا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ﴾ [سورة المائدة: 95] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم احرام کی حالت میں شکار کو قتل نہ کرو۔“ یہاں تک کہ فرمایا: ﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾ [سورة المائدة: 95]۔“ اس آدمی نے کہا: جی ہاں۔ پھر اس نے کہا: میں نے ایک ہرن کو قتل کیا ہے، میرے اوپر کیا فدیہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”ایک قربانی۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ قربانی کعبہ میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 10151
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ الْهَدْيِ مِمَّا هُوَ؟ فَقَالَ: " مِنَ الثَّمَانِيَةِ أَزْوَاجٍ " فَكَأَنَّ الرَّجُلَ شَكَّ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَتَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَهَلْ سَمِعْتَ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ} [المائدة: ١]؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ: {لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ} [الحج: ٣٤]؟، وَقَالَ {وَمِنَ الْأَنْعَامِ حَمُولَةً وَفَرْشًا كُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللهُ} [الأنعام: ١٤٢] " قَالَ: فَسَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ: {مِنَ الضَّأْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ}؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَهَلْ سَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ} [المائدة: ٩٥] إِلَى قَوْلِهِ: {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} [المائدة: ٩٥]؟ " فَقَالَ الرَّجُلُ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَتَلْتُ ظَبْيًا فَمَاذَا عَلَيَّ؟ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: {هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ} [المائدة: ٩٥]، فَقَالَ عَلِيٌّ: " قَدْ سَمَّى اللهُ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ كَمَا تَسْمَعُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مساجد کے دروازوں پر فرشتے ہوتے ہیں، وہ پہلے آنے والوں کو درج کرتے ہیں، جب امام منبر پر تشریف رکھتا ہے تو وہ اپنے صحیفے بند کر لیتے ہیں اور ذکر کو سنتے ہیں، جلدی آنے والا ایسے ہے جیسے اونٹ کی قربانی دیتا ہے، اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے، پھر اس کے بعد آنے والے کو مینڈھے کی قربانی کا ثواب، پھر اس کے بعد مرغی کے صدقہ کا ثواب، پھر اس کے بعد آنے والے کو انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔“