کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حج کرنے والے بچے کا بالغ ہو جانا، غلام کا آزاد ہو جانا اور ذمی (غیر مسلم شہری) کا مسلمان ہو جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: " أَسْمِعُونِي مَا تَقُولُونَ وَافْهَمُوا مَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَا لَا تَخْرُجُوا فَتَقُولُوا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، أَيُّمَا غُلَامٍ حَجَّ بِهِ أَهْلُهُ فَبَلَغَ مَبْلَغَ الرِّجَالِ فَعَلَيْهِ الْحَجُّ، فَإِنْ مَاتَ فَقَدْ قَضَى حَجَّتَهُ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ مَمْلُوكٍ حَجَّ بِهِ أَهْلُهُ فَيُعْتَقُ فَعَلَيْهِ الْحَجُّ وَإِنْ مَاتَ فَقَدْ قَضَى حَجَّتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”مجھے اپنی بات سناؤ جو تم کہتے ہو اور اس بات کو سمجھو جو میں تمہیں کہتا ہوں۔ خبردار! باہر نکل کر یہ نہ کہنا کہ ابن عباس نے کہا۔ جس بچے کو اس کے گھر والوں نے حج کرایا، پھر وہ بچہ بالغ ہو گیا تو اس پر حج ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو اس کا حج پورا ہو گیا اور جس غلام کو اس کے گھر والوں نے حج کرایا پھر وہ آزاد کر دیا گیا تو اس پر حج ہے، اگر فوت ہو گیا تو اس کا حج پورا ہو گیا“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، قَالَ: " أَيُّمَا صَبِيٍّ حَجَّ ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ حَجَّةً أُخْرَى، وَأَيُّمَا أَعْرَابِيٍّ حَجَّ ثُمَّ هَاجَرَ فَعَلَيْهِ أَنْ يَحُجَّ حَجَّةً أُخْرَى، وَأَيُّمَا عَبْدٍ حَجَّ ثُمَّ أُعْتِقَ فَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى " قَالَ الْقَاضِي: حَدَّثَنَا مَرْفُوعًا، قَالَ الشَّيْخُ: تَفَرَّدَ بِرَفْعِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْقُوفًا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ مَوْقُوفًا وَهُوَ الصَّوَابُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو ظبیان سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس بچے نے حج کیا پھر بالغ ہو گیا، اس پر دوسرا حج واجب ہے اور جس دیہاتی نے حج کیا، پھر ہجرت کی، اس کے ذمہ بھی دوسرا حج ہے اور جس غلام نے حج کیا پھر آزاد کر دیا گیا تو اس پر بھی دوسرا واجب ہے۔“
محمد بن منہال اسے یزید بن زریع سے، وہ شعبہ سے مرفوع بیان کرنے میں منفرد ہیں، دوسرے راویوں نے اسے شعبہ سے موقوف بیان کیا ہے، اسی طرح سفیان ثوری نے اسے اعمش سے موقوف روایت کیا ہے اور یہی درست ہے۔
محمد بن منہال اسے یزید بن زریع سے، وہ شعبہ سے مرفوع بیان کرنے میں منفرد ہیں، دوسرے راویوں نے اسے شعبہ سے موقوف بیان کیا ہے، اسی طرح سفیان ثوری نے اسے اعمش سے موقوف روایت کیا ہے اور یہی درست ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، قَالَ: أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ غُفَيْرٍ، ثنا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُحَمَّدِ، ابْنَيْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِيهِمَا جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْ حَجَّ صَغِيرٌ حَجَّةً لَكَانَتْ عَلَيْهِ حَجَّةٌ إِذَا بَلَغَ إِنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ فِي الْعَبْدِ وَالْأَعْرَابِيِّ عَلَى هَذَا النَّسَقِ، وَحَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ ضَعِيفٌ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فِي مَمْلُوكٍ أَهَلَّ بِالْحَجِّ ثُمَّ عَتَقَ قَالَا: " إِنْ أُعْتِقَ بِعَرَفَةَ أَجْزَأَهُ، وَإِنْ أُعْتِقَ بِجَمْعٍ فَكَانَ فِي مَهَلٍّ فَلْيَرْجِعْ إِلَى عَرَفَةَ وَيُجْزِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چھوٹی عمر میں حج کیا جب وہ بالغ ہو جائے، اگر زادِ راہ کی استطاعت رکھے تو اس پر حج ہے۔“ اور باقی حدیث غلام اور دیہاتی کے بارے میں اسی طرز پر ذکر کی۔
(ب) حسن بصری اور عطا بن ابی رباح رحمہما اللہ ایک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے حج کیا، پھر آزاد کر دیا گیا، فرماتے ہیں: اگر وہ عرفہ میں آزاد کیا گیا تو یہ حج ہی کفایت کر جائے گا۔ اگر مزدلفہ میں آزاد کیا گیا تو پھر دوبارہ عرفہ لوٹے تو یہ حج بھی اس سے کفایت کر جائے گا۔
حرام بن عثمان ضعیف راوی ہے۔
(ب) حسن بصری اور عطا بن ابی رباح رحمہما اللہ ایک غلام کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس نے حج کیا، پھر آزاد کر دیا گیا، فرماتے ہیں: اگر وہ عرفہ میں آزاد کیا گیا تو یہ حج ہی کفایت کر جائے گا۔ اگر مزدلفہ میں آزاد کیا گیا تو پھر دوبارہ عرفہ لوٹے تو یہ حج بھی اس سے کفایت کر جائے گا۔
حرام بن عثمان ضعیف راوی ہے۔