کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: منیٰ کی راتوں میں مکہ میں رات گزارنے کی کوئی رخصت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9689
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَرِيزٌ، أَوْ أَبُو حَرِيزٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا مِنْ يَحْيَى، يَعْنِي الشَّكَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ فَرُّوخَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: إِنَّا نَبْتَاعُ، أَوْ قَالَ: نَتَبَايَعُ بِأَمْوَالِ النَّاسِ فَيَأْتِي أَحَدُنَا مَكَّةَ فَيَبِيتُ عَلَى الْمَالِ، فَقَالَ: " أَمَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاتَ " أَوْ قَالَ: " قَدْ بَاتَ بِمِنًى وَظَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے خریدتے ہیں اور مکہ جانا ہوتا ہے تو کیا ہم وہیں رات گزار لیں؟ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں رات گزاری اور وہیں رہے۔
حدیث نمبر: 9690
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا يَبِيتَنَّ أَحَدٌ مِنَ الْحَاجِّ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ وَرَاءِ الْعَقَبَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حاجیوں میں سے کوئی بھی منیٰ کی راتیں عقبہ سے پیچھے نہ گزارے۔