کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ایامِ تشریق کے درمیانی دن منیٰ میں امام کے خطبہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9680
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالَا: " رَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي خَطَبَ مِنًى ".
حافظ ثناء اللہ
ابو نجیح بنی بکر کے دو آدمیوں رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو ایامِ تشریق کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے دیکھا، جبکہ ہم آپ ﷺ کی سواری کے پاس تھے اور یہی وہ خطبہ ہے جو آپ ﷺ نے منیٰ میں ارشاد فرمایا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9680
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابوداؤد 1952»
حدیث نمبر: 9681
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ النُّعْمَانِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو ⦗٢٤٧⦘ عَاصِمٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حِصْنٍ الْغَنَوِيِّ، حَدَّثَتْنِي سَرَّاءُ بِنْتُ نَبْهَانَ، وَكَانَتْ رَبَّةَ بَيْتٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: " هَلْ تَدْرُونَ أِيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ " قَالَ: وَهُوَ الْيَوْمُ الَّذِي يَدْعُونَ يَوْمَ الرُّءُوسِ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا أَوْسَطُ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، هَلْ تَدْرُونَ أِيَّ بَلَدٍ هَذَا؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ " ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَلْقَاكُمْ بَعْدَ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ، فَيَسْأَلَكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلَا فَلْيُبَلِّغْ أَدْنَاكُمْ أَقْصَاكُمْ، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ " فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى مَاتَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ: قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الرُّءُوسِ.
حافظ ثناء اللہ
سراء بنت نہبان رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں یہ کہتے ہوئے سنا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا ہے؟“ اور یہ وہ دن تھا جسے «یَوْمُ الرُّؤُوسِ» (یوم الرؤس) کہا جاتا تھا، لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ایام تشریق کا افضل دن ہے۔ کیا تم جانتے ہو یہ کون سا شہر ہے۔“ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ «الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ» (مشعر حرام) ہے“، پھر فرمایا: ”مجھے معلوم نہیں شاید میں تمہیں اس کے بعد مل سکوں یا نہ، خبردار! تمہارے مال، خون اور عزتیں تم پر تمہارے اس شہر میں اس دن کی طرح حرام ہیں حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جا ملو تو وہ تمہارے اعمال کے بارے میں تم سے سوال کرے گا، خبردار! تمہارے قریب والے دور والے تک یہ بات پہنچا دیں، خبردار! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟“ جب ہم مدینہ پہنچے تو آپ ﷺ کچھ ہی مدت بعد وفات پا گئے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9681
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابوداؤد 1953۔ ابن خزيمه 2973۔ طبراني كبير 777۔ طبراني اوسط: 2430۔ ربيعه مجهول الحال هي»
حدیث نمبر: 9682
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، أَخْبَرَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَعَرَفَ أَنَّهُ الْوَدَاعُ، فَأَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ الْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَهُ فَرَكِبَ، فَوَقَفَ بِالْعَقَبَةِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي خُطْبَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ سورت ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] (جب اللہ کی مدد اور فتح آجائے) نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے جان لیا کہ یہ الوداع ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی قصواء کا حکم دیا اس پر کجاوا کسا گیا، آپ ﷺ سوار ہوئے، عقبہ کے پاس ٹھہرے، لوگ جمع ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو!۔۔۔“ الخ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9682
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد بن حميد في المنتخب: 858۔ موسي بن عبيده الربذي ضعيف هي»