کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حاجیوں کو پانی پلانے، اور اس سے اور آبِ زمزم سے پانی پینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 9652
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ ثُمَّ أَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ: " انْزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ " فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں: پھر نبی ﷺ بیت اللہ کی طرف لوٹے، ظہر کی نماز مکہ میں ادا کی۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے اور وہ زمزم پلا رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی عبدالمطلب! پانی کھینچو، اگر مجھے خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پلانے پر غالب آجائیں گے تو میں تمہارے ساتھ مل کر کھینچتا۔“ انہوں نے آپ کو ایک ڈول دیا تو آپ نے اس میں سے پیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9652
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 9653
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ، ثنا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: " اسْقِنِي "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، قَالَ: " اسْقِنِي " فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: " اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمِلٍ صَالِحٍ " ثُمَّ قَالَ: " لَوْلَا أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ عَلَى هَذِهِ " يَعْنِي عَاتِقَهُ وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ پانی پلانے والوں کی طرف آئے اور پانی طلب کیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے فضل! جا اور جا کر اپنی ماں سے نبی ﷺ کے لیے مشروب لے کر آ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلا“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ لوگ اس میں اپنے ہاتھ ڈالتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے پلا“، آپ ﷺ نے اس سے پیا، پھر آپ ﷺ زمزم پر آئے اور وہ پلا رہے تھے اور اس میں کام کر رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لگے رہو تم نیک کام کر رہے ہو“، پھر فرمایا: ”اگر یہ خدشہ نہ ہو کہ تم مغلوب ہوجاؤ گے تو میں اترتا اور رسی کو یہاں رکھتا“ اور آپ ﷺ نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9653
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1554»
حدیث نمبر: 9654
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالُوا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَى بَنِي عَمِّكُمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ، وَالْعَسَلَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ؟ أَمِنْ حَاجَةٍ بِكُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا حَاجَةٌ وَلَا بُخْلٌ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ فَاسْتَسْقَى فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَاءٍ مِنْ نَبِيذٍ فَشَرِبَ وَسَقَى فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ: " أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ" كَذَا فَاصْنَعُوا فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِنْهَالٍ.
حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا: کیا وجہ ہے کہ میں دیکھتا ہوں تمہارے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلاتے ہیں اور تم نبیذ پلاتے ہو؟ کیا تم ضرورت مند ہو یا کنجوسی کی وجہ سے ایسا کرتے ہو؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، ہمیں کوئی حاجت یا کمی نہیں ہے اور نہ ہی کنجوسی ہے، نبی ﷺ اپنی سواری پر تشریف لائے اور ان کے پیچھے اسامہ رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے پانی طلب کیا تو ہم نے انہیں نبیذ کا برتن دیا، آپ ﷺ نے اس میں سے پیا اور بچا ہوا اسامہ رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”تم نے اچھا اور خوب کیا ہے۔ اسی طرح کیا کرو۔“ ہم نہیں چاہتے کہ نبی ﷺ کے حکم میں تبدیلی کریں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9654
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1416»
حدیث نمبر: 9655
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفَزَارِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ ⦗٢٤٠⦘ الشَّعْبِيِّ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " سَقَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ " قَالَ عَاصِمٌ: فَحَلَفَ عِكْرِمَةُ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَى بَعِيرٍ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحِيمِ وَقَالُوا: قَالَ عِكْرِمَةُ: " وَاللهِ مَا كَانَ إِلَّا عَلَى نَاقَةٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم پلایا تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیا۔
عکرمہ رحمہ اللہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس روز رسول اللہ ﷺ اونٹ پر سوار تھے۔ عبدالرحیم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے اور انہوں نے کہا کہ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ اس دن اونٹنی پر ہی تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9655
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1566»
حدیث نمبر: 9656
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي جَلِيسٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قُلْتُ: شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ، قَالَ: شَرِبْتَ كَمَا يَنْبَغِي؟ قُلْتُ: كَيْفَ أَشْرَبُ؟ قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ ثُمَّ اذْكُرِ اسْمَ اللهِ ثُمَّ تَنَفَّسْ ثَلَاثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللهَ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " آيَةُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لَا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ ".
حافظ ثناء اللہ
عثمان بن اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ایک ہم نشین نے کہا کہ مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو کہاں سے آیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے زمزم پیا ہے، تو انہوں نے کہا: کیا تم نے «كَمَا حَقِّهِ» ”کما حقہ“ پیا ہے؟ میں نے کہا: میں کیسے پیوں؟ انہوں نے کہا: جب تو پینے لگے تو قبلے کی طرف منہ کر، پھر اللہ کا نام لے، پھر تین سانس لے اور جی بھر کے پی اور جب تو فارغ ہو جائے تو اللہ کی حمد بیان کر، بیشک نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ”ہمارے اور منافقوں کے درمیان نشانی یہ ہے کہ وہ پیٹ بھر کر زمزم نہیں پیتے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9656
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 9657
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ قَالَ: شَرِبْتُ مِنْ زَمْزَمَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَرَوَاهُ الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى السِّينَانِيُّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9657
درجۂ حدیث محدثین: انظر قبله
تخریج حدیث «انظر قبله»
حدیث نمبر: 9658
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: جَاءَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9658
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 9659
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي قِصَّةِ إِسْلَامِهِ إِلَى أَنْ قَالَ: " فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ فَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ، ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَأَتَيْتُهُ وَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: فَقَالَ: " مَتَى كُنْتَ هَا هُنَا؟ " قُلْتُ: قَدْ كُنْتُ هَا هُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَيَوْمًا، قَالَ: " فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟ " قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى ⦗٢٤١⦘ تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ وَشِفَاءُ سُقْمٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے اپنے اسلام لانے کا قصہ سنایا، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی آئے، آپ ﷺ نے حجر اسود کا استلام کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا، پھر نماز پڑھی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور میں ہی وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سے پہلے سلام کے ذریعے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم یہاں کب سے ہو؟“ میں نے کہا: میں یہاں تیس دن اور رات سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تمہیں کھانا کون کھلاتا تھا؟“ میں نے کہا: میرا کھانا صرف آب زمزم تھا، میں موٹا تازہ ہو گیا حتیٰ کہ میرے پیٹ کا عکن (سلوٹیں) ٹوٹنے لگا اور میں نے ذرا بھی بھوک محسوس نہیں کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کھانے کا کھانا اور بیماری کی شفا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9659
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 3473»
حدیث نمبر: 9660
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْبَاغَنْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ " تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: «مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ» ”زمزم کا پانی اسی لیے ہے جس کے لیے وہ پیا جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 9660
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ ابن ماجه 3062۔ احمد 3/ 357»