کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آخری دو دنوں میں رمی کے دوران سواری سے اترنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " كَانَ إِذَا كَانَ هَذِهِ الْأَيَّامُ يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيقِ أَتَاهَا مَاشِيًا ذَاهِبًا، وَرَاجِعًا " وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دنوں یعنی ایامِ تشریق میں ان جمروں پر پیدل آتے اور پیدل جاتے اور کہتے کہ نبی ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا، وَرَاجِعًا وَيُخْبِرُهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما جمروں کے پاس یومِ نحر کے بعد والے تین دنوں میں پیدل آتے جاتے اور کہتے کہ: ”نبی ﷺ اس طرح کرتے تھے۔“
وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ ابْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ. وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَمِّهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ فِي الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَشْيَبِ أَيْضًا تَنْصِيصٌ عَلَى الثَّلَاثَةِ، وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ: يُشْبِهُ إِذَا رَمَى يَوْمَ النَّحْرِ رَاكِبًا لِاتِّصَالِ رُكُوبِهِ مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنْ يَرْمِيَ يَوْمَ النَّفْرِ رَاكِبًا لِاتِّصَالِ رُكُوبِهِ بِالصَّدْرِ، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
اور اس حدیث کو عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد اور چچا سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ» ”تین ایام“ کا ذکر نہیں کیا اور أشیب کی روایت میں تین کی صراحت بھی نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب «يَوْمَ النَّحْرِ» ”قربانی کے دن“ انہوں نے سوار ہو کر رمی کی، اس لیے کہ مزدلفہ سے ان کی سواری مسلسل جاری تھی، تو اس کے مشابہ یہ ہے کہ «يَوْمَ النَّفْرِ» ”کوچ کے دن“ بھی سوار ہو کر رمی کریں، اس لیے کہ ان کی سواری واپسی (کوچ) سے متصل ہوتی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
اور اس حدیث کو عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے والد اور چچا سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «الْأَيَّامِ الثَّلَاثَةِ» ”تین ایام“ کا ذکر نہیں کیا اور أشیب کی روایت میں تین کی صراحت بھی نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب «يَوْمَ النَّحْرِ» ”قربانی کے دن“ انہوں نے سوار ہو کر رمی کی، اس لیے کہ مزدلفہ سے ان کی سواری مسلسل جاری تھی، تو اس کے مشابہ یہ ہے کہ «يَوْمَ النَّفْرِ» ”کوچ کے دن“ بھی سوار ہو کر رمی کریں، اس لیے کہ ان کی سواری واپسی (کوچ) سے متصل ہوتی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں: عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو ⦗٢١٤⦘ يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: رَمْيُ الْجِمَارِ رُكُوبُ يَوْمَيْنِ وَمَشْيُ يَوْمَيْنِ قَالَ الشَّيْخُ: فَإِنْ صَحَّ حَدِيثُ الْعُمَرِيِّ كَانَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رمیِ جمار دو دن سوار ہو کر اور دو دن پیدل ہے، شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر عمری کی حدیث صحیح ہو تو یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّاسَ كَانُوا إِذَا رَمَوَا الْجِمَارَ مَشَوْا ذَاهِبِينَ وَرَاجِعِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ رَكِبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم کہتے ہیں کہ لوگ جمروں کو مارنے کے لیے پیدل ہی آتے جاتے تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص ہیں جو سب سے پہلے سوار ہوئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَرْكَبَ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْجِمَارِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ " كَذَا وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي، وَقَدْ سَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَعَطَاءٍ رَجُلٌ، وَرِوَايَةُ ابْنِ عُيَيْنَةَ أَصَحُّ.
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما جمار کی طرف ضرورت کے بغیر سوار ہو کر جانا ناپسند فرماتے تھے۔
میں نے اسے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے، اس کی سند سے ابراہیم اور عطاء کے درمیان ایک راوی ساقط ہو گیا ہے، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
میں نے اسے اپنی کتاب میں اسی طرح پایا ہے، اس کی سند سے ابراہیم اور عطاء کے درمیان ایک راوی ساقط ہو گیا ہے، اور ابن عیینہ کی روایت زیادہ صحیح ہے۔