کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: منیٰ آنے کا بیان، اور وہ کہیں نہ رکے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں مارے، اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہے۔
حدیث نمبر: 9546
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْمُقْرِئُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ قَالَا: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الْمَسْجِدِ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ رَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى النَّحْرِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ درمیانے راستے پر چلے جو کہ جمرہ کبریٰ کی طرف جا نکلتا ہے، حتیٰ کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو مسجد کے قریب ہے تو سات کنکریاں ماریں، ان میں سے ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی اور وادی کے درمیان کھڑے ہو کر رمی کی، پھر واپس آگئے۔