کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا بیان جس نے ان دونوں (نمازوں) کے درمیان اپنا اونٹ بٹھانے کی مقدار کے برابر فاصلہ کیا۔
حدیث نمبر: 9500
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ، فَقُلْتُ لَهُ: الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " فَرَكِبَ فَلَمَّا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ نَزَلَ فَتَوَضَّأَ، فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ فَصَلَّاهَا، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عرفہ سے لوٹے حتیٰ کہ جب گھاٹی کے قریب پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا، پھر وضو کیا لیکن اچھی طرح نہیں، میں نے آپ ﷺ سے کہا: نماز! آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تیرے آگے ہے۔“ پھر آپ ﷺ سوار ہوئے تو جب مزدلفہ آئے، اترے اور اچھی طرح سے وضو کیا، پھر اقامت کہی گئی اور آپ ﷺ نے مغرب پڑھائی۔ پھر ہر کسی نے اپنے اونٹ کو اپنی اپنی جگہ پر بٹھایا، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی، آپ ﷺ نے عشاء پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا۔
حدیث نمبر: 9501
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّهُ سَأَلَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ قُلْتُ: أَخْبِرْنِي كَيْفَ فَعَلْتُمْ، أَوْ صَنَعْتُمْ عَشِيَّةَ رَدِفْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: جِئْنَا الشِّعْبَ الَّذِي يُنِيخُ فِيهِ النَّاسُ لِلْمُعَرَّسِ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ، ثُمَّ بَالَ، مَا قَالَ زُهَيْرٌ: إِهْرَاقُ الْمَاءِ، ثُمَّ دَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا لَيْسَ بِالْبَالِغِ جِدًّا قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، الصَّلَاةَ، قَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " قَالَ: فَرَكِبَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمُزْدَلِفَةَ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَنَاخَ النَّاسُ فِي مَنَازِلِهِمْ وَلَمْ يَحِلُّوا حَتَّى أَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ فَعَلْتُمْ حِينَ أَصْبَحْتُمْ؟، قَالَ: رَدِفَهُ الْفَضْلُ وَانْطَلَقْتُ أَنَا فِي سُبَّاقِ قُرَيْشٍ عَلَى رِجْلِيَّ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ.
حافظ ثناء اللہ
کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا: ”مجھے بتاؤ جس رات تم رسول اللہ ﷺ کے ردیف تھے اس دن تم نے کیسے کیا تھا؟“ وہ کہتے ہیں: ہم اس گھاٹی سے آئے جس میں لوگ رات گزارنے کے لیے اونٹ بٹھاتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی بٹھائی، پھر پیشاب کیا۔ پھر وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا پھلکا وضو کیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: «الصَّلَاةُ أَمَامَكَ» ”نماز تیرے آگے ہے۔“ وہ کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے، مغرب کی اقامت کہی گئی، پھر لوگوں نے اپنی اپنی جگہوں پر اونٹ بٹھائے اور ابھی انہوں نے کجاوے نہ کھولے تھے کہ عشاء کی اقامت ہو گئی۔ پھر لوگ آزاد ہو گئے، میں نے کہا: تم نے صبح کیا کیا؟ وہ کہتے ہیں: فضل رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ردیف بنے اور میں پیادہ قریش کے اگلے قافلے میں تھا۔