کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے ضب کے راستے کے بجائے مازمین کا راستہ اختیار کرنے اور مزدلفہ پہنچنے تک مغرب کو عشاء کے وقت تک مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 9487
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ قَالَ كُرَيْبٌ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِمَا، وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، فَقَالَ: الشِّعْبُ: الَّذِي يَدْخُلُهُ الْأُمَرَاءُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے عرفات سے سوار ہوا تو جب رسول اللہ ﷺ مزدلفہ سے پہلے جس گھاٹی پر پہنچے تو سواری کو بٹھا دیا اور پیشاب کیا، پھر آپ ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو وضو کروایا، آپ ﷺ نے ہلکا پھلکا وضو کیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! نماز“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز آپ کے آگے ہے“، آپ ﷺ سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ آئے، نماز پڑھی۔ پھر جمع کی صبح کو سیدنا فضل رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے ردیف ہوئے، کریب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ تلبیہ کہتے رہے حتیٰ کہ جمرہ عقبہ کو مارا۔
شعب (گھاٹی) وہ جگہ ہے (جس میں) امراء داخل ہوتے ہیں۔
شعب (گھاٹی) وہ جگہ ہے (جس میں) امراء داخل ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9488
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسٍ أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الشِّعْبِ الَّذِي يَدْخُلُهُ الْأُمَرَاءُ دَخَلَهُ فَدَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ: الصَّلَاةَ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " فَلَمَّا أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ أَقَامَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ فَلَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ الصَّلَاةَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جس میں امراء داخل ہوتے ہیں تو وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا۔ میں نے کہا: نماز! آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تیرے آگے ہے۔“ جب مزدلفہ آئے تو اقامت کہی اور مغرب کی نماز پڑھی، ابھی آخری لوگ نہ پہنچے تھے کہ اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی۔
حدیث نمبر: 9489
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْبَزْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: ⦗١٩٥⦘ سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟، فَقَالَ: دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ عِنْدَ الشِّعْبِ عَدَلَ إِلَيْهِ فَنَزَلَ فَبَالَ فَأَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا فَقُلْتُ: أَلَا نُصَلِّي؟، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا وَنَزَلَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا سُبْحَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
کریب کہتے ہیں کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ جب عرفہ سے لوٹے تو انہوں نے کیسے کیا؟ تو انہوں نے کہا: عرفہ سے لوٹے حتیٰ کہ جب گھاٹی کے قریب آئے تو اس کی طرف مائل ہوئے، اترے اور پیشاب کیا، میں آپ کے پاس پانی لایا، آپ ﷺ نے ہلکا سا وضو کیا، تو میں نے کہا: کیا آپ ﷺ نے نماز نہیں پڑھنی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز تیرے آگے ہے“، پھر سوار ہوئے حتیٰ کہ جمع میں پہنچے، اترے اور نماز کے لیے وضو کیا۔ پھر مغرب کی نماز تین رکعتیں اور عشا کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی نوافل وغیرہ نہ پڑھے۔