کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے طواف کی دو رکعتیں جہاں جگہ ملی وہیں پڑھ لیں۔
حدیث نمبر: 9327
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ ⦗١٤٩⦘ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَافَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِالْكَعْبَةِ فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طَوَافَهُ نَظَرَ فَلَمْ يَرَ الشَّمْسَ، فَرَكِبَ حَتَّى نَاخَ بِذِي طُوًى فَسَبَّحَ رَكْعَتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) عبدالرحمن بن عبدالقاری فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ صبح کی نماز کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا طواف مکمل کر لیا تو دیکھا، لیکن سورج نظر نہ آیا تو سوار ہوئے حتیٰ کہ ذی طوی میں سواری کو بٹھایا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
(ب) ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز عصر کے بعد طواف کرتے تھے، پھر اپنے حجرے میں داخل ہو جاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ حجرے میں کیا کام کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے روایت ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو نماز عصر کے بعد پڑھا۔
(ب) ابو زبیر مکی سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ نماز عصر کے بعد طواف کرتے تھے، پھر اپنے حجرے میں داخل ہو جاتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ حجرے میں کیا کام کرتے تھے۔
(ج) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے روایت ہے کہ انہوں نے ان دونوں کو نماز عصر کے بعد پڑھا۔
حدیث نمبر: 9328
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْحَاجِبُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ طَافَ بَعْدَ الْعَصْرِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ " وَرُوِّينَا، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ صَلَّوْهُمَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَهَؤُلَاءِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عصر کے بعد طواف کیا اور دو رکعتیں ادا کیں۔
حدیث نمبر: 9329
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ، وَصَلَّى أِيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بنی عبد مناف! کسی بھی شخص کو اس بیت اللہ کا طواف کرنے اور نماز پڑھنے سے منع نہ کرو، خواہ کوئی بھی وقت ہو۔“