حدیث نمبر: 9313
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قَرَأَ عَلَيْهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ إِلَى قَوْمِكِ حِينَ بَنَوَا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا تَرُدُّهُ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْتُ ". فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ لَفْظُ حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی قوم کو نہیں دیکھا جب انھوں نے کعبہ بنایا تو ابراہیم کی بنیادوں سے کم کردیا؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ اسے ابراہیم کی بنیادوں پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کا کفر کے ساتھ قریبی دور نہ ہوتا تو میں ایسا کردیتا۔“ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی ﷺ سے سنی ہے تو پھر میں سمجھتا ہوں کہ نبی ﷺ نے پتھر کے قریب والے دو رکنوں کو چھونا اسی وجہ سے چھوڑا ہے کہ یہ قواعدِ ابراہیم پر نہیں۔“
حدیث نمبر: 9314
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أُخْبِرَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " إِنَّ الْحَجَرَ بَعْضُهُ مِنَ الْبَيْتِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " وَاللهِ إِنِّي لَأَظُنُّ إِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَظُنُّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتْرُكِ اسْتِلَامَهُمَا إِلَّا أَنَّهُمَا لَيْسَا عَلَى قَوَاعِدِ الْبَيْتِ، وَلَا طَافَ النَّاسُ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ إِلَّا لِذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کی خبر دی گئی کہ منڈیر کا بعض حصہ بیت اللہ میں داخل ہے تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں گمان کرتا ہوں اگر عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ نبی ﷺ سے سنا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کا استلام صرف اسی وجہ سے چھوڑا ہے کہ وہ بیت اللہ کی بنیادوں پر نہیں اور لوگوں نے اسی وجہ سے اس منڈیر کے پیچھے سے طواف کیا تھا۔
حدیث نمبر: 9315
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ ⦗١٤٥⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَدْرِ أَمِنَ الْبَيْتِ هِيَ؟، قَالَ: " نَعَمْ "، قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ قَوْمَكِ قَصُرَتْ بِهُمُ النَّفَقَةُ " قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعٌ؟، قَالَ: " فَعَلَ ذَلِكَ قَوْمُكِ؛ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ، وَأَنْ أُلْصِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کیا دیوار بیت اللہ میں سے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں!“ میں نے کہا: کیا وجہ ہے انہوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری قوم کے پاس خرچہ کم ہو گیا تھا“، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ اس کا دروازہ اونچا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری قوم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ جس کو چاہیں اندر داخل ہونے دیں اور جس کو چاہیں روک لیں اور اگر تیری قوم جاہلیت کے ساتھ تازہ تعلق والی نہ ہوتی اور ان کے دلوں میں برائی کا خوف نہ ہوتا تو میرا خیال تھا کہ دیوار کو بیت اللہ میں داخل کر دیا جائے اور اس کا دروازہ زمین کے ساتھ لگا دیا جائے۔“
حدیث نمبر: 9316
أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ الْحُسَيْنُ: حَدَّثَنَا وَقَالَ، إِبْرَاهِيمُ: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ ". فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ بِهَذَا، قَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى بِنَاءِ ابْنِ الزُّبَيْرِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَكْرٍ السَّهْمِيِّ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: سَمِعْتُ عَدَدًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ قُرَيْشٍ يَذْكُرُونَ أَنَّهُ تُرِكَ مِنَ الْكَعْبَةِ فِي الْحِجْرِ نَحْوٌ مِنْ سِتَّةِ أَذْرُعٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو قزعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالملک بن مروان نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کو ہلاک کرے وہ ام المومنین رضی اللہ عنہا پر جھوٹ بولتا ہے، کہتا ہے کہ میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم کفر کے ساتھ قریبی دور والی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر دیوار اس میں شامل کر دیتا، تیری قوم نے عمارت میں کمی کر دی ہے۔“ تو حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا: اے امیر المومنین! ایسا نہ کہیں میں نے ام المومنین رضی اللہ عنہا کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے تو وہ کہنے لگے: کاش میں یہ بات اس کو گرانے سے پہلے سن لیتا تو اسے ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بنا پر ہی چھوڑ دیتا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قریش کے بہت سے اہل علم سے یہ بات سنی ہے کہ کعبہ کو تقریباً چھ ذراع
(٩) نو فٹ دیوار تک چھوڑا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے متعدد قریش کے اہل علم کو اس بات کا تذکرہ کرتے سنا کہ کعبہ کا شمالی حصہ چھ ذراع چھوڑ دیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قریش کے بہت سے اہل علم سے یہ بات سنی ہے کہ کعبہ کو تقریباً چھ ذراع
(٩) نو فٹ دیوار تک چھوڑا گیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے متعدد قریش کے اہل علم کو اس بات کا تذکرہ کرتے سنا کہ کعبہ کا شمالی حصہ چھ ذراع چھوڑ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 9317
قَالَ الشَّيْخُ: أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ، ذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ حَيَّانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ،، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْ بِهَا حِينَ بِنَتِ الْكَعْبَةَ " ⦗١٤٦⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَفِي رِوَايَةِ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِِ، عَنْ عَائِشَةَ: خَمْسَةَ أَذْرُعٍ. وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: قَرِيبًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ، وَالسِّتَّةُ أَشْهَرُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم شرک کے ساتھ قریبی دور والی نہ ہوتی تو میں کعبہ کو گرا دیتا اور اس کو زمین کے ساتھ ملا دیتا اور اس کے دو دروازے مشرقی اور مغربی جانب بناتا اور دیوار تک کے چھ ذراع اس میں داخل کر دیتا کیوں کہ قریش نے اس کو بناتے ہوئے مختصر کر دیا تھا۔“
حدیث نمبر: 9318
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ، فَأُدْخِلُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ، وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ فَبَلَغْتُ بِهِ بُنْيَانَ إِبْرَاهِيمَ " قَالَ: وَذَلِكَ الَّذِي حَمَلَ ابْنَ الزُّبَيْرِ عَلَى هَدْمِهِ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ: وَقَدْ شَهِدْتُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حِينَ هَدْمَهُ وَأَدْخَلَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، وَقَدْ رَأَيْتُ بُنْيَانَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِجَارَةً كَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ مُتَلَاحِمَةً أَوْ قَالَ: مُتَلَاحِكَةً، قَالَ جَرِيرٌ: فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ مَوْضِعُهُ؟ قَالَ: أُرِيَكُمُ الْآنَ، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَأَشَارَ إِلَى مَكَانٍ، فَقَالَ: هَا هُنَا، قَالَ جَرِيرٌ فَحَزَرْتُ مِنَ الْحِجْرِ سِتَّةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ. وَرَوَاهُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ جُرَيْجٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ. وَكَأَنَّ يَزِيدَ بْنَ رُومَانَ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ وَعُرْوَةَ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیری قوم جاہلیت کے ساتھ قریبی دور والی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کے بارے میں حکم دیتا، اس کو گرایا جاتا اور جو حصہ اس سے خارج کیا گیا اس کو اس میں داخل کیا جاتا اور میں اس کو زمین کے ساتھ ملا دیتا اور دو دروازے رکھتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی، وہ اس کو تعمیر کرنے سے عاجز آ گئے تھے تو میں اس کو ابراہیم کی بنیادوں تک پہنچا دیتا۔“
حدیث نمبر: 9319
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَام بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " الْحِجْرِ مِنَ الْبَيْتِ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ مِنْ وَرَائِهِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ} [الحج: ٢٩] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ رکاوٹ بیت اللہ میں سے ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ کا طواف اس کے پیچھے سے کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾ [سورة الحج: 29] ”اور وہ پرانے گھر کا طواف کریں۔“