کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پہلے طواف اور سعی میں رمل کا بیان جنہیں وہ بجا لائے گا جب مکہ میں حج یا عمرے کی غرض سے آئے۔
حدیث نمبر: 9282
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَامِدٍ الْمُقْرِئُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثَةً، وَمَشَى أَرْبَعَةً " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ، وَكَانَ يَسْعَى بِبَطْنِ الْمَسِيلِ ⦗١٣٦⦘ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَّ؟ قَالَ: لَا إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ، فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بیت اللہ کا طواف کرتے تو تین چکر تیز چل کر لگاتے اور چار آہستہ، اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ اور جب صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتے تو بطن مسیل سے آغاز کرتے۔ عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے کہا: جب ابن عمر رضی اللہ عنہما رکنِ یمانی کے پاس پہنچ جاتے تو چلتے تھے؟ کہنے لگے: نہیں، مگر جب وہاں بھیڑ ہوتی، کیونکہ وہ استلام کیے بغیر رکن کو نہ چھوڑتے تھے۔
حدیث نمبر: 9283
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ عُقْبَةَ، يُحَدِّثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ، وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ ثُمَّ يَمْشِي أَرْبَعًا ثُمَّ يُصَلِّي سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّادٍ وَفِي رِوَايَةِ شُجَاعٍ " أَنَّهُ كَانَ إِذَا طَافَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ أَوَّلَ مَا يَقْدَمُ فَإِنَّهُ يَسْعَى ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ بِالْبَيْتِ وَيَمْشِي أَرْبَعًا " لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ آتے اور حج و عمرہ کے لیے طواف کرتے تو بیت اللہ کے گرد تین چکر سعی کرتے اور چار چلتے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، پھر صفا و مروہ کا طواف کرتے۔
(ب) شجاع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: حج اور عمرہ میں مکہ تشریف لاتے، طواف کرتے اور بیت اللہ کے گرد تین چکر دوڑتے تھے اور چار چکر آہستہ چلتے تھے۔ اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
(ب) شجاع کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: حج اور عمرہ میں مکہ تشریف لاتے، طواف کرتے اور بیت اللہ کے گرد تین چکر دوڑتے تھے اور چار چکر آہستہ چلتے تھے۔ اس کے بعد والے الفاظ ذکر نہیں کیے۔
حدیث نمبر: 9284
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مِنْ أَصْلِهِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمْ يَرْمُلْ فِي السَّبْعِ الَّذِي أَفَاضَ فِيهِ " قَالَ: وَقَالَ عَطَاءٌ: لَا رَمَلَ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ان سات چکروں میں رمل نہیں کیا، جب طوافِ افاضہ کیا۔
حدیث نمبر: 9285
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ لَمْ يَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى وَكَانَ لَا يَسْعَى إِذَا طَافَ حَوْلَ الْبَيْتِ إِذَا أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ فِي قَوْلِهِ: لَا يَسْعَى: يَعْنِي لَا يَرْمُلُ، قَالَ: وَمَنْ أَحْرَمَ مِنْ مَكَّةَ أَوْ طَافَ قَبْلَ مِنًى، ثُمَّ طَافَ يَوْمَ النَّحْرِ لَمْ يَرْمُلْ إِنَّمَا يَرْمُلُ مَنْ كَانَ ابْتِدَاءُ طَوَافِهِ.
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف نہ کرتے حتیٰ کہ منیٰ سے واپس آتے اور جب مکہ سے احرام باندھتے تو بیت اللہ کے طواف میں سعی نہ کرتے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس قول کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ سعی نہیں کرے گا، یعنی رمل نہیں کرے گا جس نے مکہ سے احرام باندھا یا منیٰ سے پہلے طواف کیا، پھر یومِ نحر کو طواف کیا وہ رمل نہیں کرے گا۔ رمل ابتدائی طواف میں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اس قول کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ سعی نہیں کرے گا، یعنی رمل نہیں کرے گا جس نے مکہ سے احرام باندھا یا منیٰ سے پہلے طواف کیا، پھر یومِ نحر کو طواف کیا وہ رمل نہیں کرے گا۔ رمل ابتدائی طواف میں ہے۔