حدیث نمبر: 9219
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ الْمَاسَرْجِسِيُّ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " لَفْظُ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَفِي رِوَايَةِ يَعْلَى رَأَيْتُ عُمَرَ اسْتَقْبَلَ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَبَّلَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ. وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَرْجِسَ، وَأَسْلَمُ مَوْلَى عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کی طرف آئے، اس کو بوسہ دیا اور فرمایا: ”میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“
(ب) مسند ابو یعلیٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ حجر اسود کی طرف متوجہ ہوئے، پھر کہا: ”اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ پھر آگے بڑھے اور اس کو بوسہ دیا۔
(ب) مسند ابو یعلیٰ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ حجر اسود کی طرف متوجہ ہوئے، پھر کہا: ”اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔“ پھر آگے بڑھے اور اس کو بوسہ دیا۔
حدیث نمبر: 9220
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ ⦗١٢٠⦘ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ، وَيَقُولُ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ، وَلَا تَنْفَعُ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا " لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ: لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَقَالَ: عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَقَالَ: " إِنِّي لَأُقَبِّلُكَ وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ "، ثُمَّ ذَكَرَ الرِّوَايَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَرَوَاهُ وَكِيعٌ عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: رَأَيْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ، وَالْتَزَمَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا: میں تجھے چوم رہا ہوں اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے۔۔۔ الخ
حدیث نمبر: 9221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " دَخَلْنَا مَكَّةَ عِنْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى، فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَابَ الْمَسْجِدِ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَبَدَأَ بِالْحَجَرِ فَاسْتَلَمَهُ، وَفَاضَتْ عَيْنَاهُ بِالْبُكَاءِ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا حَتَّى فَرَغَ فَلَمَّا فَرَغَ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ مسجد کے دروازے پر آئے، اپنی اونٹنی کو بٹھایا، پھر مسجد میں داخل ہوئے اور حجر اسود سے آغاز فرمایا، اس کو چھوا اور آپ ﷺ کی آنکھیں آنسو بہانے لگیں، پھر آپ ﷺ تین چکر دوڑے اور چار چلے حتیٰ کہ جب فارغ ہوئے تو حجر اسود کو بوسہ دیا اور اپنے ہاتھ اس پر رکھے اور ان کو اپنے چہرے پر پھیرا۔
حدیث نمبر: 9222
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ رَجُلٌ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ "، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إنْ زُحِمْتُ؟ أَرَأَيْتَ إنْ غُلِبْتُ؟ قَالَ: " اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی ﷺ اس کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے، تو اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے بھیڑ ہو جائے اور میں مغلوب ہو جاؤں؟ تو انہوں نے فرمایا: اس خیال کو یمن میں ہی رہنے دے، میں نے نبی ﷺ کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔