أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَقَيْسٌ، وَسَلَامٌ كُلُّهُمْ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا أَنْ هُدِمَ الْبَيْتُ بَعْدَ جُرْهُمٍ بِنَتْهُ قُرَيْشٌ فَلَمَّا أَرَادُوا وَضْعَ الْحَجَرِ تَشَاجَرُوا مَنْ يَضَعُهُ، فَاتَّفَقُوا أَنْ يَضَعَهُ أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ مِنْ هَذَا الْبَابِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ فَأَمَرَ بِثَوْبٍ فَوَضَعَ الْحَجَرَ فِي وَسَطِهِ وَأَمَرَ كُلَّ فَخِذٍ أَنْ يَأْخُذَ بِطَائِفَةٍ مِنَ الثَّوْبِ، فَيَرْفَعُوهُ وَأَخَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب جرہم کے بعد بیت اللہ کو گرایا گیا تو اس کو قریش نے تعمیر کیا اور جب حجر اسود رکھنے کی باری آئی تو انہوں نے آپس میں جھگڑا کیا کہ یہ کون رکھے گا، تو ان کا اس بات پر اتفاق ہوا کہ جو اس دروازے میں پہلے داخل ہوگا وہی رکھے گا، تو رسول اللہ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے ایک کپڑے کا حکم دیا اور پتھر کو اس کے درمیان میں رکھا اور ہر قبیلے کو حکم دیا کہ وہ کپڑے کا ایک حصہ پکڑ کر اوپر اٹھائیں اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو اٹھا کر رکھا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ أَبُو الشَّيْخِ الْأَصْبَهَانِيِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثنا ابْنُ عَبَّاسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مِنْ هَذَا الْبَابِ الْأَعْظَمِ، وَقَدْ جَلَسَتْ قُرَيْشٌ مِمَّا يَلِي الْحَجَرَ " ⦗١١٧⦘ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا فِي دُخُولِهِ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ، وَخُرُوجِهِ مِنْ بَابِ الْحَنَّاطِينَ وَإِسْنَادُهُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: يَدْخُلُ الْمُحْرِمُ مِنْ حَيْثُ شَاءَ. قَالَ: وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَابِ بَنِي شَيْبَةَ وَخَرَجَ مِنْ بَابِ بَنِي مَخْزُومٍ إِلَى الصَّفَا، وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی ﷺ جب قریش کے دور میں آئے تو مکہ میں اس بڑے دروازے سے داخل ہوئے اور قریش حجر اسود والی جانب بیٹھے ہوئے تھے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعاً روایت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے اور بابِ حناطین سے باہر نکلے، لیکن اس کی سند محفوظ نہیں ہے۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محرم جہاں سے چاہے داخل ہو۔ نبی ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے اور بابِ بنی مخزوم سے صفا کی طرف نکلے۔ یہ روایت مرسل جید ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مرفوعاً روایت کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے اور بابِ حناطین سے باہر نکلے، لیکن اس کی سند محفوظ نہیں ہے۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: محرم جہاں سے چاہے داخل ہو۔ نبی ﷺ بابِ بنی شیبہ سے داخل ہوئے اور بابِ بنی مخزوم سے صفا کی طرف نکلے۔ یہ روایت مرسل جید ہے۔