کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے محرم کے لیے اپنے اوپر سِلا ہوا کپڑا ڈالنے کو مکروہ قرار دیا ہے اگرچہ وہ اسے نہ پہنے۔
حدیث نمبر: 9074
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَصَابَهُ بَرْدٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ بُرْنُسًا فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: بُرْنُسٌ، فَقَالَ: أَبْعِدْهُ عَنِّي أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى الْمُحْرِمَ أَنْ يَلْبَسَ الْبُرْنُسَ؟.
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ٹھنڈ لگ گئی، جبکہ وہ محرم تھے تو میں نے ان پر برنس ڈال دی تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: برنس ہے۔ کہنے لگے: اس کو مجھ سے دور کر دو، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے ”محرم کو برنس پہننے سے منع فرمایا ہے۔“