کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان کا بیان جنہوں نے طواف قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب سمجھا، اور جنہوں نے اس میں گنجائش دیکھی۔
حدیث نمبر: 9024
بَابُ مَنِ اسْتَحَبَّ تَرْكَ التَّلْبِيَةِ فِي طَوَافِ الْقُدُومِ، وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَمَنْ رَآهَا وَاسِعَةً.
حافظ ثناء اللہ
اس شخص کے بیان کا باب جس نے طوافِ قدوم میں اور صفا و مروہ پر تلبیہ ترک کرنے کو مستحب قرار دیا، اور جس نے اس معاملے میں وسعت و گنجائش سمجھی۔
حدیث نمبر: 9024
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لَا يُلَبِّي وَهُوَ يَطُوفُ حَوْلَ الْبَيْتِ قَالَ الشَّيْخُ: وَأَمَّا الصَّفَا وَالْمَرْوَةُ فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: الَّذِي رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُقُوفِ عَلَيْهِمَا دُعَاءٌ وَتَكْبِيرٌ، وَفِي السَّعْيِ بَيْنَهُمَا دُعَاءٌ، فَأَسْتَحِبُّ أَنْ أَفْعَلَ مِنْ هَذَا مَا فَعَلَ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَكُونَ التَّلْبِيَةُ بَيْنَهُمَا مَكْرُوهَةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا بَيِّنٌ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي صِفَةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہیں کہتے تھے۔ [صحیح: موطا مالک، 749]
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ ﷺ نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔
شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ صفا و مروہ کے بارے میں امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ان پر ٹھہر کر دعا کرنا اور تکبیر کہنا ہی روایت کیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہوئے دعا کرنا ہے، تو مجھے بھی یہی پسند ہے کہ میں وہ کام کروں جو آپ ﷺ نے کیا ہے، یعنی تلبیہ کو مکروہ کہے بغیر۔
حدیث نمبر: 9025
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَامَ عَلَى الشِّقِّ الَّذِي عَلَى الصَّفَا فَلَبَّى، فَقُلْتُ: إِنِّي نُهِيتُ عَنِ التَّلْبِيَةِ، فَقَالَ: " وَلَكِنِّي آمُرُكَ بِهَا كَانَتِ التَّلْبِيَةُ اسْتِجَابَةً اسْتَجَابَهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صفا والی جانب کھڑے ہوئے اور انہوں نے تلبیہ کہا تو مسروق رحمہ اللہ نے کہا: مجھے تلبیہ سے منع کیا گیا ہے تو انہوں نے فرمایا: لیکن میں تجھ کو اس کا حکم دیتا ہوں، تلبیہ دعائے مستجاب تھی جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے قبول کی گئی۔