کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اسے آخری عشرے کی جفت راتوں میں تلاش کرنے کی ترغیب، کیونکہ جب مہینے کو اس کے آخر سے شمار کیا جائے تو اس کی جفت راتیں طاق بن جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 8532
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ تُبَانَ لَهُ فَلَمَّا انْقَضَيْنَ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَنُقِضَ وَرُفِعَ ثُمَّ أُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فَأَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَأُعِيدَ مَكَانَهُ وَاعْتَكَفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي أُنْبِئْتُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ فَخَرَجْتُ كَيْمَا أُحَدِّثُكُمْ بِهَا أَوْ أُخْبِرُكُمْ بِهَا فَتَلَاحَى رَجُلَانِ يَحْتَقَّانِ مَعَهُمَا الشَّيْطَانُ فَأُنْسِيتُهَا فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ وَالسَّابِعَةِ ⦗٥٠٨⦘ وَالْخَامِسَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کے لیے تاکہ (وہ) واضح ہو جائے، جب عشرہ پورا ہو گیا تو آپ ﷺ نے خیمہ ختم کرنے کا حکم دیا تو اسے اٹھا لیا گیا، پھر آخری عشرے کے لیے اسی جگہ خیمہ نصب کیا گیا اور آپ ﷺ نے آخری عشرے کا اعتکاف کیا اور آپ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: ”اے لوگو! مجھے لیلۃ القدر کی خبر دی گئی، میں نکلا تاکہ تمہیں آگاہ کروں مگر دو آدمی جھگڑا کر رہے تھے اور ان کے ساتھ شیطان تھا، سو میں (وہ وقت) بھلا دیا گیا، تم اسے تلاش کرو تو سات، پانچ کی راتوں کو۔“
(ابومعاویہ کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تیسری رات میں، اور امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں سعید جریری سے اسی معنی میں حدیث بیان کی مگر یہ کہ جب اکیس گزر جائیں جو اس کے ساتھ ہے وہ بائیس ہے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8532
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 8533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ الْبُخَارِيُّ تَابَعَهُ عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ أَيُّوبَ وَعَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ الْتَمِسُوهَا فِي أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اسے تلاش کرو، رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر ہوتی ہے، جب نو باقی ہوں یا سات باقی ہوں یا پانچ باقی ہوں۔“
اور خالد نے عکرمہ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اسے چوبیس میں تلاش کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8533
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 8534
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ لَاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَعِكْرِمَةَ، قَالَا: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَنْ يَعْلَمُ مَتَى لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " هِيَ فِي الْعَشْرِ وَهِيَ فِي تِسْعٍ يَمْضِينَ أَوْ فِي سَبْعٍ يَبْقَيْنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لیلۃ القدر مرکب ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ دس میں ہے اور یہ نو گزر جائیں تو تب سے یا سات باقی رہ جائیں تو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 8534
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»