حدیث نمبر: 8521
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَّامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ} [القدر: 2].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾ ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔“
﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾ ”بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ (رات) سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔“ [سورة القدر: 1-5]
﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ﴾ ”بے شک ہم نے اسے (قرآن کو) شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں فرشتے اور روح (جبرائیل) اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے اترتے ہیں۔ وہ (رات) سراپا سلامتی ہے فجر کے طلوع ہونے تک۔“ [سورة القدر: 1-5]
حدیث نمبر: 8521
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ} [القدر: ١] قَالَ: " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ جُمْلَةً وَاحِدَةً إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا وَكَانَ بِمَوْقِعِ النُّجُومِ وَكَانَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يُنَزِّلُهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهُ فِي أَثَرِ بَعْضٍ فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا} ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ [سورة القدر: 1] کے بارے میں کہ قرآن یکبارگی آسمانِ دنیا پر لیلۃ القدر میں نازل ہوا اور وہ ستاروں کے اترنے کی جگہ ہے اور اللہ تعالیٰ اسے نازل کیا کرتے تھے موقع کی مناسبت سے ایک کے بعد دوسری وحی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: انہوں نے کہا ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً﴾ [سورة الفرقان: 32] کہ اس پر قرآن یکبارگی کیوں نہیں اتار دیا جاتا ہے۔ ﴿لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ﴾ [سورة الفرقان: 32] تاکہ ہم آپ کے دل کو مضبوط کر دیں۔
حدیث نمبر: 8522
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ السِّقَاءُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِنَيْسَابُورَ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَكَرِيَّا ⦗٥٠٥⦘ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَبِسَ السِّلَاحَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَلْفَ شَهْرٍ قَالَ: فَعَجِبَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ} [القدر: ٢] الَّتِي لَبِسَ فِيهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ السِّلَاحَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَلْفَ شَهْرٍ وَهَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا تذکرہ فرمایا کہ: ”اس نے اللہ کی راہ میں ہزار مہینے اسلحہ باندھے رکھا۔“ راوی کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر تعجب کیا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ (سورت) نازل فرمائی: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ * لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ﴾ [سورة القدر: 1-3] کہ جس شخص نے اللہ کی راہ میں اسلحہ باندھے رکھا ہزار مہینہ تھا۔
حدیث نمبر: 8523
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے لیلۃ القدر کا قیام کیا ایمان و طلبِ ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ بخش دیے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور طلبِ ثواب کی نیت سے اس کے پہلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
حدیث نمبر: 8524
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّوَيْهِ الْإِسْفَرَايِيِنِيُّ، فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ وَمِائَتَيْنِ، أنبأ أَبُو الْيَمَانِ أنبأ شُعَيْبٌ أنبأ أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يقُمْ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَيُوَافِقَهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا يُغْفَرْ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ وَرْقَاءَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی قیام کرے گا لیلۃ القدر کا اور اس نے اسے ایمان کی حالت اور طلب ثواب کی نیت سے پایا تو اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔“