کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مشرک پر اور اس شخص پر نفلی صدقہ کرنا جس کے افعال قابلِ تعریف نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 7842
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ يَرْضَخُوا لِأَنْسِبَائِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ، فَنَزَلَتْ {لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللهَ يَهْدِي مَنْ يشَاءُ} [البقرة: ٢٧٢] حَتَّى بَلَغَ {وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ} [البقرة: ٢٧٢] قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ وہ اپنے قرابت داروں کو تھوڑا سا بھی فائدہ دیں اس حال میں کہ وہ مشرک ہوں، تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ﴾ [سورة البقرة: 272] ﴿وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 272] پھر انہوں نے رخصت دے دی۔
حدیث نمبر: 7843
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَتْنِي أُمِّي وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأُعْطِيهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، صِلِيهَا " كَذَا قَالَ سَعْدَانُ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میری ماں میرے پاس آتی ہے اور وہ رغبت چاہتی ہے تو کیا میں اسے دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اس کے ساتھ صلہ رحمی کر۔“
حدیث نمبر: 7844
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: أَتَتْنِي أُمِّي رَاغِبَةً فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ⦗٣٢٢⦘ أَأَصِلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " قَالَ سُفْيَانُ: وَفِيهَا نَزَلَتْ: {لَا يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ} [الممتحنة: ٨]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِدْرِيسَ، وَأَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری ماں میرے پاس عہدِ قریش میں آئی اور وہ رغبت رکھتی تھی، تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ﴾ [سورة الممتحنة: 8]۔
حدیث نمبر: 7845
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَهُ مِثْلَ رِوَايَةِ الْحُمَيْدِيِّ، دُونَ قَوْلِ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے، پھر انہوں نے حمیدی کی روایت جیسی روایت بیان کی ہے۔
حدیث نمبر: 7846
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَقَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْقُشَيْرِيُّ، وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّرَّاجُ، قَالُوا: ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ رَجُلٌ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ عَلَى زَانِيَةٍ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ، لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَخَرَجَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، فَقَالَ: اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ، وَعَلَى غَنِيٍّ، وَعَلَى سَارِقٍ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللهُ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک آدمی نے کہا کہ میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، چنانچہ وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا اور (نادانستہ طور پر) اسے ایک زانیہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ زانیہ پر ہوا؟ پھر اس نے کہا: میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، چنانچہ وہ صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک مالدار کے ہاتھ میں دے دیا، صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات ایک مالدار کو صدقہ دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ مالدار پر ہوا؟ پھر اس نے کہا: میں آج رات ضرور صدقہ کروں گا، وہ صدقہ لے کر نکلا اور اسے ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا۔ صبح ہوئی تو لوگ باتیں کرنے لگے کہ آج رات چور کو صدقہ کر دیا گیا ہے، اس نے کہا: اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، میرا صدقہ زانیہ پر، مالدار پر اور چور پر ہوا؟ پھر اس کے پاس آنے والا آیا اور اس نے کہا: تمہارا صدقہ قبول کر لیا گیا ہے؛ جہاں تک زانیہ کا تعلق ہے تو ہو سکتا ہے وہ اس صدقے کی وجہ سے زنا سے باز آ جائے، اور جو مالدار ہے تو ہو سکتا ہے وہ اس سے عبرت حاصل کرے اور اس مال میں سے خرچ کرنے لگے جو اللہ نے اسے دیا ہے، اور جو چور ہے تو امید ہے کہ وہ اپنی چوری سے باز آ جائے۔“