کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: پانی پلانے کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَاكِرٍ، ثنا عَفَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَالْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْجَبُ إِلَيْكَ، قَالَ: " سَقْيُ الْمَاءِ " لَفْظُ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، وَفِي حَدِيثِ عَفَّانَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ وَزَادَ قَالَ: وَكَانَ لِسَعْدٍ سِقَايَةٌ بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: قُلْتُ: لِقَتَادَةَ مَنْ قَالَ لِآلِ سَعْدٍ؟ قَالَ الْحَسَنُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: کون سا صدقہ بہتر ہے؟ (آپ کو پسند ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پانی پلانا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7804
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 7805
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الَّذِي كَانَ يَنْزِلُ فِي بَنِي دَالِانَ، عَنْ نُبَيْحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيُّمَا مُسْلِمٍ كَسَا ثَوْبًا عَلَى عُرْيٍ كَسَاهُ اللهُ مِنْ خَضِرِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ أَطْعَمَ مُسْلِمًا عَلَى جُوعٍ أَطْعَمَهُ اللهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، وَأَيُّمَا مُسْلِمٍ سَقَى مُسْلِمًا عَلَى ظَمَأٍ سَقَاهُ اللهُ مِنَ الرَّحِيقِ الْمَخْتُومِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس مسلمان نے کسی کو کپڑے پہنائے، اس کی حاجت پر اللہ تعالیٰ اسے جنت کے ریشم سے پہنائے گا اور جس نے کسی مسلمان کو بھوک میں کھلایا، اسے اللہ تعالیٰ جنت کے پھل کھلائے گا اور جس کسی نے مسلمان کو پیاس کی وجہ سے پلایا، اللہ اسے ﴿رَحِيقٍ مَّخْتُومٍ﴾ [سورة المطففين: 25] (عمدہ شراب) پلائیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7805
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابوداؤد»
حدیث نمبر: 7806
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، ثنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا، فَنَزَلَ بِهَا، فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ بِهَذَا مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ بَلَغَنِي، وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ: مِثْلُ مَا بَلَغْتُ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً، فَأَمْسَكَهُ بِفِيهِ حتَّى رَقِيَ، فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللهُ لَهُ، فَغَفَرَ لَهُ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا؟ فَقَالَ: " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ " ⦗٣١٢⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک مرتبہ ایک آدمی راستے میں چل رہا تھا، اسے سخت پیاس محسوس ہوئی، تو اس نے ایک کنواں پایا اور اس میں اتر گیا۔ پھر وہ نکلا تو اس نے دیکھا کہ ایک کتا ہانپ رہا ہے اور پیاس کی وجہ سے مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس آدمی نے کہا: اسے بھی ویسی ہی پیاس لگی ہے جیسی مجھے لگی تھی۔
قتیبہ کی روایت اس کی مثل ہے جس میں ہے کہ وہ کنویں میں اترا اور اپنے جوتے کو پانی سے بھرا اور اسے اپنے منہ میں دبا لیا، یہاں تک کہ وہ اوپر چڑھ آیا اور کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر کی اور اسے بخش دیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیا ہمارے لیے جانوروں میں بھی اجر ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر جگر والے میں اجر ہے۔““
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7806
حدیث نمبر: 7807
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ الضَّالَّةَ تَرِدُ عَلَى حَوْضِ إِبِلِي، هَلْ لِي أَجْرٌ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، فِي الْكَبِدِ الْحَرَّى أَجْرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنی بیماری (تکلیف) میں پیارے پیغمبر ﷺ کے پاس آئے تو کہا: ”مجھے بتائیں اگر گمشدہ جانور میرے اونٹ کے حوض پر آجائے تو کیا اسے پلانے سے اجر ملے گا؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! زندہ دل والے میں اجر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7807
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه»
حدیث نمبر: 7808
وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ تَغْشَى حَوْضِي، هَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَكُلُّ ذِي كَبِدِ حَرَّى "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، وَأنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا جو میرے حوض پر آتا ہے، اگر میں اسے پلاؤں تو کیا مجھے اجر ملے گا؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، ہر زندہ دل والے میں اجر ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7808
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 7809
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي كُدَيْرٌ الضَّبِّيُّ، أَنَّ رَجُلًا أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنْ طَاعَتِهِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: " أَوَ هُمَا أَعْمَلَتَاكَ؟ ". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " تَقُولُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ "، قَالَ: وَاللهِ مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ فَضْلَ مَالِي، قَالَ: " فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتُفْشِي السَّلَامَ " قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ، قَالَ: " فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟ ". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَانْظُرْ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ، ثُمَّ اعْمَدْ إِلَى أَهْلِ أَبْيَاتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسْقِهِمْ، فَلَعَلَّكَ أَنْ لَا يَهْلِكَ بَعِيرُكَ، وَلَا يَنْخَرِقَ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ ". قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، قَالَ: فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ، وَلَا هَلَكَ بَعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا ".
حافظ ثناء اللہ
کُدَیر ضَبّی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتلائیں جو مجھے اس (جنت) کے قریب قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو ان پر عمل کرے گا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصاف کی بات کہو اور مال سے بچا ہوا دے دو۔“ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کی بات کروں اور نہ ہی اپنا بچا ہوا مال دینے کی استطاعت رکھتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو کھانا کھلا۔“ اس نے کہا: یہ بھی مشکل ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے اونٹ ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تو اپنے اونٹوں میں سے طاقت ور، پانی پلانے والے اونٹ لے اور گھر والوں کی طرف جا، وہ گدلا پانی پیتے، سو تو انہیں پلا، شاید تیرا اونٹ تجھے ہلاک نہ کرے اور تیرا مشکیزہ نہ پھٹے، یہاں تک کہ تجھ پر جنت واجب ہو جائے۔“ وہ کہتے ہیں: وہ دیہاتی تکبیر کہتے ہوئے چلا گیا۔ راوی کہتے ہیں کہ نہ تو اس کا مشکیزہ پھٹا اور نہ ہی اس کا اونٹ ہلاک ہوا، یہاں تک کہ وہ شہید ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7809
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن خزيمه»