کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: منیحہ (عاریتاً دودھ پینے کے لیے جانور دینے) کے متعلق جو منقول ہے۔
حدیث نمبر: 7798
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ السُّوسِيُّ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ، أنبأ أَبِي قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، وَالْحَدِيثُ لِلْعَبَّاسِ، قَالَا: ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلَ أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ مَسْجِدَ دِمَشْقَ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا وَمَكْحُولٌ وَأَبُو بَحْرِيَّةَ فِي أُنَاسٍ، قَالَ حَسَّانُ: فَكُنْتُ فِيمَنْ قَامَ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعُونَ حَسَنَةً، أَعْلَاهَا مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، لَا يَعْمَلُ رَجُلٌ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا، وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ بِهَا الْجَنَّةَ " قَالَ حَسَّانُ: فَذَهَبْنَا نَعُدُّ رَدَّ السَّلَامِ، وَإِمَاطَةَ الْحَجَرِ، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِمَّا دُونَ مَنِيحَةِ الْعَنْزِ، فَمَا أَجَزْنَا خَمْسَةَ عَشَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس نیکیاں ہیں، سب سے اعلیٰ دودھ والا جانور دینا ہے، جو آدمی کسی نیکی پر اس کے اجر و ثواب کی امید کرتے ہوئے عمل کرتا ہے اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائیں گے۔“ حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر ہم سلام کے جواب، پتھر ہٹانے اور ان کے علاوہ دیگر نیکیوں کو دودھ والے جانور کے دینے سے کم شمار کرتے تھے، سو ہم نے پندرہ کی اجازت نہ دی۔
حدیث نمبر: 7799
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عِيسَى، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعُونَ خَصْلَةً، أَعْلَاهُنَّ مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا يَعْمَلُ عَبْدٌ مِنْهَا بِخَصْلَةٍ رَجَاءَ ثَوَابِهَا، وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا الْجَنَّةَ " ثُمَّ ذَكَرَ قَوْلَ حَسَّانَ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چالیس خصلتیں اچھی ہیں، ان سب میں سے بہترین دودھ والا جانور (بطور عاریت) دینا ہے، کوئی بندہ ان میں سے کسی بھی خصلت پر ثواب کی امید اور وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرتا ہے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔“
حدیث نمبر: 7800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٣١٠⦘ إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى وَذَكَرَ خِصَالًا، وَقَالَ: " وَمَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً غَدَتْ بِصَدَقَةٍ، وَرَاحَتْ بِصَدَقَةٍ، صَبُوحُهَا وَغَبُوقُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ عَنْ زَكَرِيَّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منع کیا اور ان خصائل کا تذکرہ کیا، پھر فرمایا: ”جس نے دودھیل جانور کے صدقہ کے ساتھ صبح کی اور صدقہ کے ساتھ رات کی، صبح اور شام کو دوہنے کی وجہ سے۔“
حدیث نمبر: 7801
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ، إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً تَغْدُو بِرِفْدٍ، وَتَرُوحُ بِرِفْدَانِ، أَجْرُهَا عِنْدَ اللهِ عَظِيمٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”سب سے افضل دودھ والا جانور (اونٹنی) ہے، جو مسلمان اپنے گھر کے لیے صبح و شام ایک بڑے برتن میں دوہتا ہے“