کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس اختیار کا بیان کہ آدمی اپنی زکوٰۃ الفطر اور مال کی زکوٰۃ میں اپنے ان رشتہ داروں کو ترجیح دے جو اس کے مستحق ہوں، اور جن کا نفقہ اس کے ذمے لازم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 7734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ صَدَقَتَكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسکین پر تیرا صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور قرابت دار پر صدقہ کرنے کے دو اجر ہیں: ایک صلہ رحمی اور دوسرا صدقہ۔“
حدیث نمبر: 7735
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، رَفَعَهُ قَالَ: " الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسلمانوں پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے اور غریب رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔“