کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”زکوٰۃ الفطر امیر اور غریب دونوں پر واجب ہے بشرطیکہ وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں“۔
حدیث نمبر: 7695
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ: " أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ أَوْ بُرٍّ عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى أَوْ صَغِيرٍ، أَوْ كَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ، فَأَمَّا الْغَنِيُّ فَيُزَكِّيهِ اللهُ، وَأَمَّا الْفَقِيرُ فَيَرُدُّ عَلَيْهِ أَكْثَرَ مِمَّا أَعْطَاهُ " وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، عَنْ حَمَّادٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ صَغِيرًا وَكَبِيرًا، غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَوْ ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ وَذَكَرَ فِي مَتْنِهِ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ، وَقَالَ فِي مَتْنِهِ أَيْضًا: أَدُّوا صَاعًا مِنْ قَمْحٍ أَوْ قَالَ: بُرٍّ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی صغیر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”گندم کا ایک صاع ادا کرو ہر مذکر و مؤنث کی طرف سے اور چھوٹے بڑے کی طرف سے اور ہر آزاد و غلام کی طرف سے۔ جو مال دار ہے اسے اللہ تعالیٰ پاک کر دیں گے اور جو فقیر ہے اس پر اس سے زیادہ لوٹایا جائے گا جو وہ دے گا۔“
سلیمان بن داؤد حماد کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چھوٹا ہو یا بڑا، مال دار ہو یا محتاج“ اور یہ بھی کہا کہ ”گندم کا ایک صاع ادا کرو“ یا کہا: ”گندم ہر انسان کی طرف سے۔“
سلیمان بن داؤد حماد کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چھوٹا ہو یا بڑا، مال دار ہو یا محتاج“ اور یہ بھی کہا کہ ”گندم کا ایک صاع ادا کرو“ یا کہا: ”گندم ہر انسان کی طرف سے۔“
حدیث نمبر: 7696
وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ الزُّوزَنِيُّ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " كَانَتْ زَكَاةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ وَأُنْثَى صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ فَقِيرٍ وَغَنِيٍّ، صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ " قَالَ مَعْمَرٌ: وَبَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَذْكُرُ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ قَالَ: الَّذِي يَأْخُذُ مِنْ زَكَاةِ الْفِطْرِ يُؤَدِّي عَنْ نَفْسِهِ، وَكَذَلِكَ عَنِ الْحَسَنِ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ، وَالشَّعْبِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”صدقہ فطر ہر آزاد و غلام، مذکر و مؤنث، صغیر و کبیر اور فقیر و غنی پر واجب ہے، ایک صاع کھجور کا یا نصف صاع گندم کا۔“
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو صدقہ فطر لے وہ اپنی طرف سے بھی ادا کرے۔ حسن، ابو العالیہ اور شعبی رحمہم اللہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔
عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو صدقہ فطر لے وہ اپنی طرف سے بھی ادا کرے۔ حسن، ابو العالیہ اور شعبی رحمہم اللہ نے بھی ایسا ہی کہا ہے۔