کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زکوٰۃ کے مال میں خیانت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7662
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمَلِنَا فَكَتَمَنَا مِنْهُ مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ كَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ". قَالَ: فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنَ الْأَنْصَارِ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَكَ قَالَ: " وَمَا لَكَ " قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقُولُ: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " وَأَنَا أَقُولُهُ ⦗٢٦٧⦘ الْآنَ مَنِ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْكُمْ عَلَى عَمِلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَكَثِيرِهِ فَمَا أُمِرَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ کندی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے جسے بھی ہم اپنے کام (زکوۃ) پر عامل مقرر کریں، اگر اس نے اس میں سے سوئی یا اس کے برابر کوئی چیز چھپائی تو وہ خیانت ہوگی اور وہ قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا۔“ وہ کہتے ہیں کہ انصار میں سے ایک سیاہ فام آدمی کھڑا ہوا گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں، اس نے کہا: ”اللہ کے رسول! مجھ سے میرا عمل قبول کرلیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟“ اس نے کہا: ”میں نے سنا جو کچھ سنا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اب پھر کہتا ہوں کہ جسے ہم تم میں سے عامل مقرر کریں وہ کم یا زیادہ سب لے کر آئے، جس کا حکم دیا ہے وہ وصول کرے اور جس سے منع کیا اس سے باز آجائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7662
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7663
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: " يَا أَبَا الْوَلِيدِ اتَّقِ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُؤَاجٌ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ، قَالَ: " أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللهُ " قَالَ: فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا أَوْ قَالَ: عَلَى اثْنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو فرمایا: ”اے ابو الولید! قیامت کے دن اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس حال میں آؤ کہ تم نے اونٹ اٹھایا ہوا ہو اور وہ بلبلا رہا ہو، یا گائے ہو کہ وہ آواز نکال رہی ہو، یا بکری ہو کہ وہ منمنا رہی ہو۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ واقعی ہونے والا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! بیشک ایسا ہی ہو گا، مگر جس پر اللہ رحم فرمائے۔“ انہوں نے عرض کیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میں ایسا کوئی عمل ہرگز نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7663
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم»