کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سونے کے نصاب اور اس پر سال گزر جانے کی صورت میں اس میں واجب مقدار کا بیان۔
حدیث نمبر: 7534
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَسَمَّى آخَرَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنَّهُ قَالَ: " هَاتُوا إِلَيَّ رُبْعَ الْعُشُورِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَتْ لَكَ مِائَتَا دِرْهَمٍ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ لَكَ عِشْرُونَ دِينَارًا، فَإِذَا كَانَتْ لَكَ وَحَالَ عَلَيْهَا الْحَوْلُ فَفِيهَا نِصْفُ دِينَارٍ فَمَا زَادَ فَبِحِسَابِ ذَلِكَ ". قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: بِحِسَابِ ذَلِكَ أَمْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا أَنَّ جَرِيرًا قَالَ: فِي الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي مَالٍ زَكَاةٌ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ. لَفْظُ حَدِيثِ بَحْرِ بْنِ نَصْرٍ وَزَادَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَبْهَانَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس چوتھائی عشر لاؤ، ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم، جب تک اس کی تعداد دو سو درہم نہ ہو جائے، اس میں زکاۃ نہیں۔ جب وہ دو سو درہم ہو جائیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان میں پانچ درہم ہیں اور تجھ پر کوئی زکاۃ نہیں جب تک بیس دینار نہ ہو جائیں اور جب تیرے پاس بیس دینار ہو جائیں اور سال گزر جائے تو اس میں نصف دینار ہے، پھر جو زیادہ ہو تو اسی حساب سے زکاۃ ہوگی۔“ راوی کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ ”زکاۃ اسی حساب سے ہوگی“ یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہی یا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً بیان کی۔ مگر جریر نے رسول اللہ ﷺ سے جو حدیث بیان کی ہے اس میں ہے کہ ”کسی بھی مال میں کوئی زکاۃ نہیں، جب تک سال نہ گزر جائے۔“