کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زکوٰۃ وصول کرنے والے کو راضی رکھنے کے متعلق جو منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلَا يُفَارِقْكُمْ إِلَّا عَنْ رِضًا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يُوَفُّوهُ طَائِعِينَ وَلَا يَلْوُوهُ لَا أَنْ يُعْطُوهُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ مَا لَيْسَ عَلَيْهِمْ، فَبِهَذَا يَأْمُرُهُمْ وَيَأْمُرُ الْمُصَدِّقَ، وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مُحْتَمَلٌ لَوْلَا مَا فِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ مِنَ الزِّيَادَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہارے پاس عاملِ زکوۃ آئے تو وہ جب تک خوش نہ ہو تم سے جدا نہ ہونے پائے (ایسا مال دو جس سے وہ خوش ہوجائے)۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم طیبِ نفس سے اسے پورا پورا دو، اس سے اعراض نہ کرو، نہ ان کو ان اموال سے دو جو ان کا حق نہیں، ہم ہی انہیں حکم دیتے ہیں اور مصدق کو بھی، اور جو بات امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی ہے وہ بھی یہی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: جَاءَ نَاسٌ يَعْنِي مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا وَيَظْلِمُونَا قَالَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنْ ظَلَمُونَا؟ قَالَ: " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ". زَادَ عُثْمَانُ: وَإِنْ ظُلِمْتُمْ. وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ جَرِيرٌ: مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کچھ عامل آئے ہیں جو ہمارے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے عاملین کو خوش کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ ہم پر زیادتی بھی کریں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے عاملین کو خوش کرو۔“ عثمان نے یہ بات زیادہ کی: ”اگرچہ تم ظلم کیے جاؤ۔“ ابو کامل اپنی حدیث میں فرماتے ہیں کہ ابن جریر نے کہا: اس کے بعد کوئی عامل ہم سے ناراض ہو کر نہیں گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7530
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ثنا مُطَيَّنٌ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكَ الْمُصَدِّقُ فَأَعْطِهِ صَدَقَتَكَ فَإِنِ اعْتَدَى عَلَيْكَ فَوَلِّهِ ظَهْرَكَ وَلَا تَلْعَنْهُ وَقُلِ اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أَخَذَ مِنِّي ". وَفِي هَذَا كَالدِّلَالَةِ عَلَى أنَّهُ رَأَى الصَّبْرَ عَلَى تَعَدِّيهِمْ، وَكَذَلِكَ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلُّوا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَبْتَغُونَ فَإِنْ عَدَلُوا فَلِأَنْفُسِهِمْ وَإِنْ ظَلَمُوا فَعَلَيْهَا، وَقَدْ مَضَى فِي بَابِ الِاخْتِيَارِ فِي دَفْعِ الصَّدَقَةِ إِلَى الْوَالِي، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ فِي الصَّبْرِ عَلَى ظُلْمِ الْوُلَاةِ، وَذَلِكَ مَحْمُولٌ عَلَى أنَّهُ أُمِرَ بِالصَّبْرِ عَلَيْهِ إِذَا عَلِمَ أنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ غَوْثٌ وَأَنَّ مَنْ وَلَّاهُ لَا يَقْبِضُ عَلَى يَدَيْهِ فَإِذَا كَانَ يُمْكِنُهُ الدَّفْعُ أَوْ كَانَ يَرْجُو غَوْثًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب زکوٰۃ لینے والا آئے تو اسے زکوٰۃ دے دو، اگر وہ تم پر زیادتی کرتا ہے تو اس سے منہ موڑ لو مگر برا بھلا نہ کہو، بلکہ کہو: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ عِنْدَكَ مَا أُخِذَ مِنِّي» ”اے میرے اللہ! میں تجھی سے اس کا اجر چاہتا ہوں جو کچھ مجھ سے لیا گیا ہے۔““
ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے درمیان رہو اور جو وہ چاہتے ہیں اس کے درمیان سے ہٹ جاؤ، اگر انصاف کریں گے تو ان کے لیے، اگر ظلم کریں گے تو عذاب انہی پر ہوگا۔“
نبی کریم ﷺ سے والیوں کے صبر کے بارے میں بہت سی احادیث آئی ہیں اور یہ بھی اسی پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے صبر کا حکم دیا جب کہ اس کو علم بھی ہو کہ کوئی معاون نہ ہوگا اور جو والی ہے اس کے ہاتھ کو روکا نہیں جاسکتا جب تک اس کا دفع کرنا ممکن نہ ہو یا مدد کی امید نہ ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7531
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الحاكم»
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَذَا وَكَذَا " فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا فَازْدَادَ صَاعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟ " فَخَاضَ النَّاسُ وَبَهَرَ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ كَانَ رَجُلًا غَائِبًا عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ، فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ لَمْ يُغِيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَشَهِيدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ گھر میں تھے اور آپ ﷺ کے پاس کچھ صحابہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، اچانک ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اتنی کھجوروں کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے بتایا: ”ایسے ایسے۔“ پھر آدمی نے کہا: فلاں نے مجھ پر زیادتی کی ہے اور اتنی اتنی زکوٰۃ لی اور ایک صاع اضافی لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ وقت کیسا ہوگا جب تم پر اس سے بھی زیادہ زیادتی کرنے والے ہوں گے؟“ تو لوگ اس بات میں گھِر گئے اور بات بڑھ گئی یہاں تک کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اگر کوئی آپ سے دور اپنے اونٹوں، جانوروں اور کھیتوں میں ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرتا رہے، پھر اس کے حق میں اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ کیا کرے، جب کہ وہ آپ سے دور ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ طیبِ نفس سے ادا کی اور وہ صرف اللہ کی رضا اور آخرت چاہتا ہے تو وہ اپنے مال میں سے کچھ غائب نہیں کرے گا اور وہ نماز قائم کرتا ہے، پھر اس پر زیادتی کی جاتی ہے تو وہ اپنے اسلحے کو پکڑتا ہے پھر لڑائی کرتا ہے اور قتل کر دیا جاتا ہے تو وہ شہید ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7532
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه احمد»