کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ غلام کے مال کی زکوٰۃ اس کے مالک پر ہے اور غلام مال کا مالک نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 7349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت سالم رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے غلام خریدا اس کے لیے مال ہے جس نے اسے بیچا، مگر یہ کہ خریدنے والا شرط رکھ لے۔“
حدیث نمبر: 7350
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي شَيْبَانُ، وَجَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَعَلَى الْمَمْلُوكِ زَكَاةٌ؟ فَقَالَ: " لَا " فَقُلْتُ: عَلَى مَنْ هِيَ؟ فَقَالَ: " عَلَى مَالِكِهِ " وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ جَابِرٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ هَلْ فِي مَالِ الْمَمْلُوكِ زَكَاةٌ؟ قَالَ: فِي مَالِ كُلِّ مُسْلِمٍ زَكَاةٌ، فِي مِائَتَيْنِ خَمْسَةٌ فَمَا زَادَ فَبِالْحِسَابِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن نافع ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اے امیر المؤمنین! کیا غلام پر زکاۃ ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں، میں نے کہا: پھر کس پر مال زکاۃ واجب ہے؟ تو انہوں نے کہا: مالک پر۔ جابر فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا یتیم کے مال میں زکاۃ ہے؟ انہوں نے کہا: ہر مال دار مسلم کے مال میں زکاۃ ہے، ہر دو سو میں سے پانچ ہیں اسی حساب سے جتنے ہو جائیں۔