کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: میت کے اہل خانہ کے لیے تیار کیے جانے والے کھانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُنَّ مَا يَشْغَلُهُنَّ "، أَوْ " أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ ". جَعْفَرٌ هَذَا هُوَ ابْنُ خَالِدِ ابْنِ سَارَةَ مَخْزُومِيٌّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آلِ جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انہیں مصروف کر دیا ہے۔“ جعفر سارہ بن خالد مخزومی کا بیٹا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7096
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَارَةَ الْمَخْزُومِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَكَانَ صَدِيقًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا نُعِيَ جَعْفَرٌ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْنَعُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آل جعفر کے لیے کھانا تیار کرو، ان کے پاس ایسی پریشانی آئی ہے جس نے انہیں مصروف کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7097
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي لَيْثٌ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ ثُمَّ تَفَرَّقْنَ إِلَّا أَهْلَهَا وَحَامَتَهَا أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطَبَخَتْ وَصَنَعَتْ ثَرِيدًا ثُمَّ صَبَّتِ التَّلْبِينَةَ عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَتْ: كُلُوا مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " التَّلْبِينَةُ مُجِمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو جاتا تو اس کے لیے عورتیں اکٹھی ہو جاتیں، پھر وہ جدا ہو جاتیں، سوائے اس کے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں کے۔ پھر وہ تلبینے سے حریرہ بنانے کا حکم دیتیں، پھر اسے پکایا جاتا اور ثرید بنایا جاتا، پھر اس پر تلبینہ ڈالتی اور کہتیں: اس میں سے کھاؤ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے: ”تلبینہ دل کے مریض کے لیے قوت کا باعث ہے اور کچھ غم کو بھی ہلکا کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7098
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري»