کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور اس کی عزت افزائی کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ ⦗١٠٠⦘ بْنُ خَالِدِ ابْنِ سَارَةَ، وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَقُثَمَ وَعُبَيْدَ اللهِ ابْنَيِ الْعَبَّاسِ نَلْعَبُ إِذْ مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى دَابَّةٍ فَقَالَ: " احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ "، فَجَعَلَنِي أَمَامَهُ، ثُمَّ قَالَ لِقُثَمَ: " احْمِلُوا هَذَا إِلَيَّ "، فَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ مَا اسْتَحْيَا مِنْ عَمِّهِ الْعَبَّاسِ أَنْ حَمَلَ قُثَمَ وَتَرَكَ عُبَيْدَ اللهِ ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِي ثَلَاثًا كُلَّمَا مَسَحَ قَالَ: " اللهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ ". قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ: مَا فَعَلَ قُثَمُ؟ قَالَ: اسْتُشْهِدَ، قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ: اللهُ وَرَسُولُهُ كَانَ أَعْلَمُ بِالْخِيَرَةِ، قَالَ: أَجَلْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اگر تم مجھے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں قثم اور عبید اللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھتے جب ہم کھیل رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر ہمارے پاس سے گزرتے تو فرماتے: ”اس کو میری طرف اٹھاؤ“ اور مجھے اپنے آگے بٹھاتے، پھر قثم کے متعلق فرماتے: ”اسے بھی میرے پاس لاؤ“ اور اسے اپنے پیچھے بٹھا لیتے، میں اپنے چچا عباس رضی اللہ عنہ سے نہیں شرماتا کہ وہ قثم کو اٹھاتے اور عبید اللہ کو چھوڑ دیتے۔ پھر میرے سر پر تین مرتبہ ہاتھ پھیرتے اور ہر مرتبہ فرماتے: «اَللّٰهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِيْ وَلَدِهِ» ”اے اللہ! جعفر کی ان کی اولاد میں جانشینی فرما (ان کی اولاد کو ویسا ہی بنا دے)۔“ میں نے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ قثم نے کیا کیا؟ انہوں نے کہا: وہ شہید ہو گیا، تو میں نے عبداللہ سے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی اس کی بھلائی کو زیادہ جانتا ہے، انہوں نے کہا: ہاں واقعی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7093
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه احمد»
حدیث نمبر: 7094
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِمَكَّةَ وَكَتَبَهُ لِي بِخَطِّهِ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ كَيْسَانَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ، فَقَالَ: " إِنْ أَرَدْتَ أَنْ يُلَيَّنَ قَلْبُكَ فَأَطْعِمِ الْمَسَاكِينَ وَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کے پاس اپنے دل کی سختی کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اپنے دل کو نرم کرنا چاہتا ہے تو مساکین کو کھانا کھلا اور یتیم کے سر پر پیار دے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7094
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه احمد»
حدیث نمبر: 7095
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى سَلْمَانَ: أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَرَدْتَ أَنْ يُلَيَّنَ قَلْبُكَ فَامْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ وَأَطْعِمْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے دل کی سختی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا دل نرم ہو جائے پھر تو یتیم کے سر پر ہاتھ رکھ (پیار دے) اور اسے کھلا پلا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7095
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»