کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبر کے پاس قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7068
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ عَنِ الْقِرَاءَةِ عِنْدَ الْقَبْرِ فَقَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ لِبَنِيهِ: " إِذَا أَدْخَلْتُمُونِي قَبْرِي فَضَعُونِي فِي اللَّحْدِ وَقُولُوا: بِاسْمِ اللهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ سَنًّا وَاقْرَءُوا عِنْدَ رَأْسِي أَوَّلَ الْبَقَرَةِ وَخَاتِمَتَهَا فَإِنِّي رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَسْتَحِبُّ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن علاء بن لجلاج اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا: جب تم مجھے قبر میں داخل کرو اور لحد میں رکھو تو کہو: «بِسْمِ اللّٰهِ وَعَلٰی سُنَّةِ رَسُوْلِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر۔“ پھر مجھ پر مٹی ڈالو اور میرے سر کے پاس سورہ بقرہ کے شروع سے اور اس کے خاتمے سے پڑھنا، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ اسے مستحب جانتے تھے۔