کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورتوں کے لیے پردے والی چارپائی (ڈولی) کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 6930
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرِ بِنْتِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أُمِّ جَعْفَرٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " يَا أَسْمَاءُ إِنِّي قَدِ اسْتَقْبَحْتُ مَا يُصْنَعُ بِالنِّسَاءِ، إِنَّهُ يُطْرَحُ عَلَى الْمَرْأَةِ الثَّوْبُ فَيَصِفُهَا "، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُرِيكِ شَيْئًا رَأَيْتُهُ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَدَعَتْ بِجَرَائِدَ رَطْبَةٍ فَحَنَّتْهَا، ثُمَّ طَرَحَتْ عَلَيْهَا ثَوْبًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " مَا أَحْسَنَ هَذَا وَأَجْمَلَهُ يُعْرَفُ بِهِ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَةِ فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَاغْسِلِينِي أَنْتِ وَعَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا تُدْخِلِي عَلَيَّ أَحَدًا "، فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَاءَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَدْخُلُ، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: لَا تَدْخُلِي فَشَكَتْ أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ هَذِهِ الْخَثْعَمِيَّةَ تَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ جَعَلَتْ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ، وَقَالَ: يَا أَسْمَاءُ مَا حَمَلَكِ أَنْ مَنَعْتِ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلْنَ عَلَى ابْنَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلْتِ لَهَا مِثْلَ هَوْدَجِ الْعَرُوسِ، فَقَالَتْ: أَمَرَتْنِي أَنْ لَا تُدْخِلِي عَلَيَّ أَحَدًا وَأَرَيْتُهَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتُ وَهِيَ حَيَّةٌ فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَصْنَعَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَاصْنَعِي مَا أَمَرَتْكِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَغَسَّلَهَا عَلِيٌّ، وَأَسْمَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
ام جعفر فرماتی ہیں کہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اسماء! جو عورت کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ طریقہ مجھے بہت قبیح لگتا ہے کہ عورت پر سے کپڑا اتار لیا جاتا ہے، پھر سارا طریقہ بیان کیا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بنت رسول اللہ ﷺ! کیا میں آپ کو وہ نہ بتاؤں جو میں نے ارضِ حبشہ میں دیکھا؟ پھر انہوں نے کھجور کی تازہ شاخیں منگوائیں اور انہیں گاڑ کر ان کے اوپر کپڑا ڈال دیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کس قدر اچھا اور بہترین طریقہ ہے جس سے مرد اور عورت کی پہچان ہو جاتی ہے، سو جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے تم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غسل دینا اور کسی کو میرے پاس نہ آنے دینا۔ سو جب وہ فوت ہو گئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو شکایت کی کہ یہ خثعمیہ میرے اور بنت رسول ﷺ کے درمیان حائل ہے اور اس نے دلہن کے ہودج کی مانند ہودج بنا رکھا ہے، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اے اسماء! تجھے کس بات نے ابھارا ہے کہ تو بنت رسول ﷺ اور ازواجِ نبی ﷺ کے درمیان حائل ہو اور دلہن کے ہودج کی مانند تو نے بنا رکھا ہے؟ تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: انہوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ مجھ پر کوئی داخل نہ ہو اور جب وہ زندہ تھیں، میں نے انہیں ایسا کر کے دکھایا تو انہوں نے مجھے کہا تھا: میرے لیے ایسا ہی کرنا، تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تو وہی کر جو تجھے حکم دیا گیا ہے، پھر وہ چلے گئے اور سیدنا علی اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہما نے ان کو غسل دیا۔