کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام مرد کی نماز جنازہ میں اس کے سر کے پاس کھڑا ہو گا اور عورت کی نماز جنازہ میں اس کے سرین کے سامنے کھڑا ہو گا
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ أَنَسًا وَصَلَّى عَلَى رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَامَ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ السَّرِيرِ وَكَانَ فِيمَنْ حَضَرَ جِنَازَتَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ، فَلَمَّا رَأَى اخْتِلَافَ قِيَامِهِ قَالَ: يَا أَبَا ⦗٥٤⦘ حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ كَمَا قُمْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا يَعْنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ وَقَالَ: احْفَظُوا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو غالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے ایک آدمی کا جنازہ پڑھا اور اس کے سر کے پاس کھڑے ہوئے۔ پھر قریش کی ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو تقریباً چارپائی کے وسط (درمیان) میں کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا، جو لوگ جنازے میں شریک تھے ان میں علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ بھی تھے۔ جب انہوں نے کھڑے ہونے کے اختلاف کو دیکھا تو کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ مرد اور عورت کے لیے یوں ہی کھڑے ہوتے تھے جیسے آپ کھڑے ہوئے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر علاء رحمہ اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اسے یاد کرلو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ نَافِعٍ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ فِي سِكَّةِ الْمِرْبَدِ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ مَعَهَا نَاسٌ كَثِيرٌ، قَالُوا: جِنَازَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَيْرٍ فَتَبِعْتُهَا فَلَمَّا وُضِعَتِ الْجِنَازَةُ، قَامَ أَنَسٌ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَأَنَا خَلْفَهُ لَا يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ، فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ لَمْ يُطِلْ وَلَمْ يُسْرِعْ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقْعُدُ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ الْمَرْأَةُ الْأَنْصَارِيَّةُ فَقَرَّبُوهَا وَعَلَيْهَا نَعْشٌ أَخْضَرُ، فَقَامَ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا نَحْوَ صَلَاتِهِ عَلَى الرَّجُلِ ثُمَّ جَلَسَ، فَقَالَ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ كَصَلَاتِكَ يُكَبِّرُ عَلَيْهَا أَرْبَعًا، وَيَقُومُ عِنْدَ رَأْسِ الرَّجُلِ وَعَجِيزَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ أَبُو غَالِبٍ فَسَأَلْتُ عَنْ صَنِيعِ أَنَسٍ فِي قِيَامِهِ عَلَى الْمَرْأَةِ عِنْدَ عَجِيزَتِهَا، فَحَدَّثُونِي أَنَّهُ إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّهُ لَمْ تَكُنِ النُّعُوشُ فَكَانَ يَقُومُ الْإِمَامُ حِيَالَ عَجِيزَتِهَا يَسْتُرُهَا مِنَ الْقَوْمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو غالب نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں مربد کی گلی میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا جس کے ساتھ بہت سے لوگ تھے، فرماتے ہیں: وہ عبداللہ بن عمیر کا جنازہ تھا اور میں اس کے پیچھے چلا۔ جب جنازہ رکھا گیا تو انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور میں ان کے پیچھے تھا، میرے اور ان کے درمیان کوئی چیز نہیں تھی وہ ان کے سر کے پاس کھڑے ہوئے اور چار تکبیرات کہیں اور ان کو نہ لمبا کیا اور نہ ہی جلدی کی۔ پھر جا کر بیٹھ گئے تو لوگوں نے کہا: ”اے ابو حمزہ! یہ انصاری عورت ہے“، انہوں نے قریب کیا تو اس پر تازہ میت تھی تو وہ اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے اور اسی طرح جنازہ پڑھا جیسے مرد کا جنازہ پڑھا پھر وہ بیٹھ گئے تو علاء بن زیاد نے کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ ایسے ہی جنازے پڑھاتے جیسے آپ نے پڑھا ہے کہ چار تکبیریں کہتے اور مرد کے سر اور عورت کی کمر کے پاس کھڑے ہوتے؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“۔۔۔ آگے مکمل حدیث بیان۔
ابو غالب فرماتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے پوچھا جو انہوں نے عورت کے جنازے میں اس کی کمر کے برابر کھڑے ہونے کا کیا تو انہوں نے کہا: وہ اس لیے تھا کہ تب تابوت وغیرہ نہیں ہوتے تھے اس لیے امام قوم سے پردہ کرنے کی خاطر اس کی کمر کے برابر کھڑا ہوتا۔
ابو غالب فرماتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ کے عمل کے بارے پوچھا جو انہوں نے عورت کے جنازے میں اس کی کمر کے برابر کھڑے ہونے کا کیا تو انہوں نے کہا: وہ اس لیے تھا کہ تب تابوت وغیرہ نہیں ہوتے تھے اس لیے امام قوم سے پردہ کرنے کی خاطر اس کی کمر کے برابر کھڑا ہوتا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْعَوْفِيُّ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ وَهِيَ نُفَسَاءُ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهَا وَسَطَهَا " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے ام کعب کا جنازہ پڑھا جو نفاس میں فوت ہو گئی تھی، تو آپ ﷺ نے اس کے درمیان میں کھڑے ہو کر نماز پڑھائی۔