السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الإمام يقف على الرجل عند رأسه وعلى المرأة عند عجيزتها باب: امام مرد کی نماز جنازہ میں اس کے سر کے پاس کھڑا ہو گا اور عورت کی نماز جنازہ میں اس کے سرین کے سامنے کھڑا ہو گا
حدیث نمبر: 6922
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا أَبُو غَالِبٍ، قَالَ: " شَهِدْتُ أَنَسًا وَصَلَّى عَلَى رَجُلٍ فَقَامَ عِنْدَ رَأْسِ السَّرِيرِ، ثُمَّ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَامَ قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ السَّرِيرِ وَكَانَ فِيمَنْ حَضَرَ جِنَازَتَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ الْعَدَوِيُّ، فَلَمَّا رَأَى اخْتِلَافَ قِيَامِهِ قَالَ: يَا أَبَا ⦗٥٤⦘ حَمْزَةَ أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ مِنَ الْمَرْأَةِ وَالرَّجُلِ كَمَا قُمْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا يَعْنِي الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ وَقَالَ: احْفَظُوا ".حافظ ثناء اللہ
ابو غالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے ایک آدمی کا جنازہ پڑھا اور اس کے سر کے پاس کھڑے ہوئے۔ پھر قریش کی ایک عورت کا جنازہ لایا گیا تو تقریباً چارپائی کے وسط (درمیان) میں کھڑے ہو کر جنازہ پڑھا، جو لوگ جنازے میں شریک تھے ان میں علاء بن زیاد عدوی رحمہ اللہ بھی تھے۔ جب انہوں نے کھڑے ہونے کے اختلاف کو دیکھا تو کہا: ”اے ابو حمزہ! کیا رسول اللہ ﷺ مرد اور عورت کے لیے یوں ہی کھڑے ہوتے تھے جیسے آپ کھڑے ہوئے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر علاء رحمہ اللہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”اسے یاد کرلو۔“