أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَا: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بِفَرَسٍ مُعْرَوْرِيٍّ فَرَكِبَهُ حِينَ انْصَرَفَ مِنْ جِنَازَةِ ابْنِ الدَّحْدَاحِ، وَنَحْنُ نَمْشِي حَوْلَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک گھوڑا بغیر زین لایا گیا، جب آپ ﷺ جنازے سے پلٹے (ابودحداح رضی اللہ عنہ کے) اور ہم آپ کے اردگرد چل رہے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ ⦗٣٥⦘ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى ابْنِ الدَّحْدَاحِ، فَأُتِيَ بِفَرَسٍ عُرْيٍ، قَالَ: فَعَقَلَهُ رَجُلٌ، فَرَكِبَهُ فَجَعَلَ يَتَوَقَّصُ بِهِ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُهُ نَسْعَى خَلْفَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّى لِابْنِ الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو دحداح رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی تو آپ ﷺ کے پاس بغیر زین گھوڑا لایا گیا۔ وہ کہتے ہیں: اسے ایک بندے نے باندھا تو آپ ﷺ اس پر سوار ہو گئے اور وہ تیز چلنے لگا اور ہم اس کے پیچھے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: بے شک نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ابن دحداح کے لیے جنت میں کھجوروں کے کتنے ہی لٹکتے ہوئے گچھے ہیں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبُ وَهُمْ يَمْشُونَ فَلَمَّا ذَهَبُوا أَوْ قَالَ عَرَجُوا رَكِبْتُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ایک جنازے میں شامل ہوئے، آپ ﷺ کے لیے سواری لائی گئی، آپ ﷺ اس پر سوار ہونے سے انکاری ہوئے۔ جب آپ ﷺ جنازے سے فارغ ہو کر جانے لگے تو آپ ﷺ کے پاس سواری لائی گئی تو آپ ﷺ سوار ہو گئے۔ آپ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، میں نے سوار ہونا مناسب نہ جانا۔ جب وہ چلے گئے یا کہا: جب وہ اوپر چڑھ گئے تو میں سوار ہو گیا، ان کے پیدل چلتے ہوئے۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا خُرُوجًا عَلَى دَوَابِّهِمْ رُكْبَانًا فَقَالَ لَهُمْ ثَوْبَانُ: " أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ مَلَائِكَةُ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ رُكْبَانٌ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک جنازے میں نکلا، انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنی سواریوں پر نکلے ہیں تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا تم لوگ حیا نہیں کرتے کہ فرشتے تو اپنے قدموں پر چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر نکلے ہو۔
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
اس سند کے ساتھ یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
وَقَدْ: رَوَاهُ عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نَاسًا رُكْبَانًا، فَقَالَ: " أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ إِنَّ مَلَائِكَةَ اللهِ عَلَى أَقْدَامِهِمْ وَأَنْتُمْ عَلَى ظُهُورِ الدَّوَابِّ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ فَذَكَرَهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ عِيسَى، وَرَوَاهُ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ مَوْقُوفًا، عَنْ ثَوْبَانَ وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْمَوْقُوفَ أَصَحُّ وَكَذَا قَالَهُ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن یونس نے یہ حدیث ابوبکر بن ابی مریم سے، انہوں نے راشد بن سعد سے اور انہوں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک جنازے میں نکلے تو کچھ لوگوں کو سوار دیکھا، تو فرمایا: ”کیا تم حیا نہیں کرتے؟ اللہ کے فرشتے تو اپنے قدموں پر ہیں اور تم جانوروں کی پشتوں پر ہو۔“
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
ایک جماعت نے بھی عیسیٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور ثور بن یزید نے اسے راشد بن سعد سے ثوبان رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے، اور اس میں دلیل ہے کہ موقوف روایت زیادہ صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔