السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الركوب عند الانصراف من الجنازة باب: جنازے سے واپسی پر سواری کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6854
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ثَوْبَانَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيَّعَ جِنَازَةً، فَأُتِيَ بِدَابَّةٍ فَأَبَى أَنْ يَرْكَبَهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَ أُتِيَ بِدَابَّةٍ فَرَكِبَهَا، فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَمْشِي فَلَمْ أَكُنْ لِأَرْكَبُ وَهُمْ يَمْشُونَ فَلَمَّا ذَهَبُوا أَوْ قَالَ عَرَجُوا رَكِبْتُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ایک جنازے میں شامل ہوئے، آپ ﷺ کے لیے سواری لائی گئی، آپ ﷺ اس پر سوار ہونے سے انکاری ہوئے۔ جب آپ ﷺ جنازے سے فارغ ہو کر جانے لگے تو آپ ﷺ کے پاس سواری لائی گئی تو آپ ﷺ سوار ہو گئے۔ آپ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک فرشتے پیدل چل رہے تھے، میں نے سوار ہونا مناسب نہ جانا۔ جب وہ چلے گئے یا کہا: جب وہ اوپر چڑھ گئے تو میں سوار ہو گیا، ان کے پیدل چلتے ہوئے۔“