کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جس نے اس (کفن) میں میانہ روی ترک کرنے کو مکروہ قرار دیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا عَمْرٌو أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا يُغَالَى فِي كَفَنٍ؛ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُغَالُوا فِي الْكَفَنِ؛ فَإِنَّهُ يُسْلَبُ سَلْبًا سَرِيعًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کفن زیادہ قیمتی نہ بنایا جائے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرماتے تھے: ”کفن میں قیمتی کفن نہ بناؤ، کیونکہ وہ جلد ہی چھین لیا جائے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ حُذَيْفَةَ الْمَوْتُ قَالَ: " ابْتَاعُوا لِي كَفَنًا ". قَالَ: فَأُتِيَ بِحُلَّةٍ ثَمَنِ ثَلَاثِ مِائَةٍ وَخَمْسِينَ دِرْهَمًا، فَقَالَ: " لَا حَاجَةَ لِي بِهَا، اشْتَرُوا لِي ثَوْبَيْنِ أَبْيَضَيْنِ؛ فَإِنَّهُمَا لَنْ يُتْرَكَا عَلَيَّ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى أُبْدَلَ بِهَا خَيْرًا مِنْهُمَا " أَوْ شَرًّا مِنْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق، صلہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا: میرے لیے کفن خرید لو، تو ان کے پاس ایک حلہ لایا گیا جس کی قیمت تین سو پچاس (350) درہم تھی، تو وہ کہنے لگے: مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں۔ میرے لیے صرف دو سفید کپڑے خرید لاؤ کیونکہ وہ مجھ پر نہیں چھوڑے جائیں گے مگر تھوڑی دیر کے لیے، یہاں تک کہ ان سے بہتر تبدیل کر دیے جائیں گے یا ان سے بدتر۔