السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: من استعد الكفن في حال الحياة باب: جس نے زندگی میں ہی کفن تیار کر لیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، وَالْمَنِيعِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ: أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبُرْدَةٍ مَنْسُوجَةٍ مِنْهَا حَاشِيَتُهَا، ثُمَّ قَالَ: " أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ؟ " قَالُوا " الشَّمْلَةُ، قَالَ: " نَعَمْ " فَقَالَتْ: نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي، فَجِئْتُ لِأَكْسُوَكَهَا، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، فَخَرَجَ وَإِنَّهَا لَإِزَارُهُ أَوْ رِدَاؤُهُ، شَكَّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ، فَجَسَّهَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، لِرَجُلٍ قَدْ سَمَّاهُ يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذِهِ الْبُرْدَةَ، أَكَسَيْتَنِيهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ " فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوَاهَا فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: وَاللهِ مَا أَحْسَنْتَ، لَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيْهَا، ثُمَّ سَأَلْتَهُ ⦗٥٦٧⦘ إِيَّاهَا وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا يَرُدُّ سَائِلًا، فَقَالَ: وَاللهِ مَا سَأَلْتُهُ إِيَّاهَا إِلَّا لِيَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ ". قَالَ سَهْلٌ: وَكَانَتْ كَفَنَهُ يَوْمَ مَاتَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي الْإِزَارِ.سیدنا سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت بنی ہوئی چادر رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی جس میں حاشیہ بھی تھا۔ پھر انہوں نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو یہ «بُرْدَة» کیا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: (شملہ) چادر ہے، تو انہوں نے کہا: ”ہاں ہاں۔“ وہ عورت کہنے لگی: ”اسے میں نے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے، میں اس لیے لائی ہوں تاکہ آپ ﷺ کو پہناؤں۔“ تو اسے رسول اللہ ﷺ نے پہن لیا گویا کہ آپ ﷺ اس کی ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ پھر آپ ﷺ نکلے اس حال میں کہ وہ آپ کا تہبند یا چادر تھی (ابراہیم کو شک ہے)، اسے ایک آدمی نے چھوا جس کا انہوں نے اس دن نام لیا تھا اور اس نے کہا: ”یہ چادر کتنی اچھی ہے، کیا آپ مجھے پہنائیں گے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ تو جب رسول اللہ ﷺ اپنے گھر آئے تو وہ چادر اس صحابی کو بھیج دی۔ لوگوں نے اسے کہا: ”اللہ کی قسم! تو نے اچھا نہیں کیا؛ آپ ﷺ نے ضرورت محسوس کرتے ہوئے اسے پہنا تھا مگر تو نے وہی مانگ لی اور تو جانتا ہے کہ آپ ﷺ سائل کو نہیں لوٹایا کرتے۔“ تو اس نے کہا: ”اللہ کی قسم! میں نے یہ نہیں مانگی مگر اس لیے کہ یہ میرا کفن بن جائے جب میں مر جاؤں۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب وہ فوت ہوا تو وہی چادر اس کا کفن بنی۔