کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کا قول جو میت کو غسل دینے کے بعد (غسل دینے والے کے لیے) غسل کو ضروری نہیں سمجھتا
حدیث نمبر: 6668
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ عَلَيْكُمْ فِي مَيِّتِكُمْ غُسْلٌ إِذَا غَسَّلْتُمُوهُ ". وَرُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَطَاءٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ”تمہارے مرنے والوں کی وجہ سے تم پر غسل نہیں ہے جب تم انہیں غسل دو۔“
دوسری روایت میں ہے کہ ”اپنے مردوں کو ناپاک نہ جانو، بیشک مسلم مردہ ہو یا زندہ وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6668
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو داؤد»