کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مسلمان اپنے مشرک رشتہ دار کو غسل دے، اس کے جنازے کے پیچھے جائے اور اسے دفن کرے، لیکن اس پر نماز نہ پڑھے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي مَا عَلَى الْأَرْضِ بِهِنَّ مِنْ شَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: آپ کا بوڑھا گمراہ بزرگ فوت ہو چکا ہے (یعنی میرا باپ)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جلدی جا اور کوئی نیا کام نہ ہو جائے یہاں تک کہ میں آؤں“۔ پھر میں ان کے پاس آیا، آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے اسے غسل دیا، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے دعائیں کیں جو مجھے بہت ہی پسند ہیں، حتیٰ کہ ان سے بڑھ کر زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کر سکتی۔
ابوالیمان ہوزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب ابو طالب فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور جنازے کی ایک طرف چلنے لگے۔ ابن عوف رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ ﷺ ایک کنارے پر چلنے لگے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تیری صلہ رحمی نے تجھے نیک کر دیا اور تو نے اچھا بدلہ حاصل کیا“ مگر آپ ﷺ اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوئے۔
ابوالیمان ہوزنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب ابو طالب فوت ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نکلے اور جنازے کی ایک طرف چلنے لگے۔ ابن عوف رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ ﷺ ایک کنارے پر چلنے لگے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تیری صلہ رحمی نے تجھے نیک کر دیا اور تو نے اچھا بدلہ حاصل کیا“ مگر آپ ﷺ اس کی قبر پر کھڑے نہ ہوئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ نَصْرَانِيًّا، فَقَالَ: " اغْسِلْهُ، وَكَفِّنْهِ، وَحَنِّطْهُ، ثُمَّ ادْفِنْهُ " ثُمَّ قَالَ: {مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى} [التوبة: ١١٣] الْآيَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا کہ میرے والد نصرانیت پر فوت ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا: ”اسے خوشبو لگا پھر اسے دفن کر دے۔“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى﴾ [سورة التوبة: 113] ”نبی ﷺ کے لیے اور نہ ہی اہل ایمان کے لیے یہ لائق ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔“