❮
❯
حدیث نمبر: 6666
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ شَوْذَبٍ الْمُقْرِئُ بِوَاسِطٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ قَدْ مَاتَ، يَعْنِي أَبَاهُ، قَالَ: " اذْهَبْ فَوَارِهِ، وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي " فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ لَهُ، فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ دَعَا لِي بِدَعَوَاتٍ مَا يَسُرُّنِي مَا عَلَى الْأَرْضِ بِهِنَّ مِنْ شَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے کہا: آپ کا بوڑھا گمراہ چچا فوت ہو چکا ہے (یعنی میرا باپ)، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جا کر اسے دفن کر دو اور میرے پاس آنے تک کوئی نیا کام نہ کرنا“۔ پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں نے غسل کیا، پھر آپ ﷺ نے میرے لیے دعائیں کیں جو مجھے بہت ہی پسند ہیں، حتیٰ کہ ان سے بڑھ کر زمین کی کوئی چیز مجھے خوش نہیں کر سکتی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6666
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد»